خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 103 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 103

خطابات مریم 103 خطابات اپنے بچوں کو بھی ساتھ چلانا پڑے گا ورنہ آپ ان انعامات کی وارث نہیں بن سکتیں جن کے وعدے اللہ تعالیٰ نے اپنے مسیح سے کئے ہیں۔اپنے بزرگوں کی قربانیوں کے تسلسل کو آپ اسی وقت قائم رکھ سکتی ہیں۔اب آپ میں بھی وہی قربانی کی روح اور وہی مر مٹنے کا جذ بہ اور وہی خدا تعالیٰ اور اس کے خلیفہ کی آواز پر لبیک کہنے کا جذبہ ہو جو آپ سے پہلی خواتین میں تھا اور وہی جذ بہ اور محبت اور قربانی کی رُوح اپنی اولادوں میں پیدا کریں تا اسلام کا جھنڈا جس کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کے سپرد کی ہے ایک نسل کے بعد دوسری نسل بلند کرتی رہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں عذاب الیم سے بچنے کی طرف خود را ہنمائی فرماتا ہے۔يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلَ ادْتُكُمْ عَلى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ في سَبِيلِ اللهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَ انْفُسِكُمْ ذلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (الصف: 12،11) اے مومنو! کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت کی خبر دوں جو تم کو دردناک عذاب سے بچالے گی۔(وہ تجارت یہ ہے ) کہ تم اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کے راستہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔اگر تم جانو تو یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عذاب الیم سے بچنے کیلئے ایک تجارت کرنی پڑے گی۔وہ تجارت نہیں جس میں کبھی نفع ہوتا ہے کبھی نقصان بلکہ وہ تجارت جس کا نفع بڑھتا ہی جائے گا وہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر اس عہد بیعت کو نبھانے کیلئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرو۔جان سے مراد صرف وہ جہاد نہیں جو جنگ کی صورت میں کیا جاتا ہے۔النفس میں انسان کی اپنی ذات بھی شامل ہے اولا د بھی شامل ہے اور اس کی ساری قوم بھی شامل ہے۔یعنی خود دین کیلئے اپنے آپ کو وقف کر دو یا دین کی خاطر اپنے اوقات اپنی صلاحیتیں اپنی عقل اپنی قوتیں خرچ کرو۔اپنے بچوں کو تیار کرو کہ وہ خدمت اسلام کریں۔اپنی قوم میں جذ بہ پیدا کرو کہ وہ سب متحد ہو کر غلبہ شاہراہ اسلام پر گامزن ہوں۔تمہاری جان بھی اس کے لئے ہو ، تمہارا مال بھی اسی کے لئے ہو ، تمہاری اولادیں بھی اسی کی راہ میں وقف ہوں۔غرض کہ إِنَّ صَلوتی وَ نُسُكِي وَ مَحْيَايَ وَمَمَاتِي (الانعام: 163) کے مطابق انسان