خطابات مریم (جلد دوم) — Page 57
خطابات مریم 57 تحریرات کے بیت الذکر کا سنگ بنیاد آپ کے مبارک ہاتھوں سے رکھا گیا۔آپ نے 24 /اگست 1962ء کو زیورچ میں خانہ خدا کی عمارت کا سنگ بنیاد اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ رکھنے کی توفیق پائی۔قدرت ثانیہ کے مظہر ثالث کی وفات کے بعد جب حضرت مرزا طاہر احمد صاحب منتخب ہوئے تو آپ نے اپنے متبرک ہاتھوں سے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی الیس الله بکاف عبدہ والی انگوٹھی آپ کو پہنائی۔آپ بہت خوش خلق ، بہت منکسر المزاج، بہت ہمدرد ، بہت دعائیں کرنے والی ، بہت برکتیں رکھنے والی ہستی تھیں۔جو ہم سے جدا ہو گئیں لیکن ہمارا خدا زندہ خدا ہے جو ہمہ وقت ہمارے ساتھ ہے۔امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کے فرمان کے مطابق ہمیں اپنی قربانیوں اور اخلاص سے ان برکتوں کا مورد بننا چاہئے جو کبھی ختم نہ ہوں بلکہ ہمیشہ ہمیش جاری رہیں۔اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔آمین حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ میری پھوپھی زاد بہن تھیں۔ہم دونوں میں عمر کا بہت فرق تھا۔1932ء میں حضرت والد صاحب ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب مرحوم سے جو ان دنوں رہتک میں سول سرجن لگے ہوئے تھے مجھے تعلیم کے لئے قادیان بھجوا دیا کچھ عرصہ تو میں اپنی نانی اماں کے گھر رہی۔پھر باقی بہن بھائی بھی پڑھنے کیلئے قادیان آگئے اور والدہ صاحبہ بھی آگئیں۔ان دنوں حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ حضرت اماں جان کے پاس مقیم تھیں اور ایف۔اے انگریزی کے امتحان کی پرائیوٹ طور پر تیاری کر رہی تھیں۔میری اچھی طرح جان پہچان اُن سے اِس عرصہ میں ہوئی۔میں اکثر حضرت اماں جان کے ہاں جایا کرتی تھی آپ کی صحبت میں گزارے ہوئے وہ دن اب بھی بڑی شدت سے یاد آتے ہیں۔عمر کے فرق کے باوجود ہم دونوں بہت بے تکلف تھیں۔میری سلائی اچھی تھی آپ نے اپنی چھوٹی بچیوں کے کئی فراک مجھ سے سلوائے۔پھر میری شادی ہوئی تو آپ سے نند کا رشتہ بھی ہو گیا۔عمر کے ساتھ ساتھ میرے دل میں آپ کی عزت اور احترام بڑھتا ہی چلا گیا۔جب حضرت اماں جان بہت بیمار ہوئیں تو انہی دنوں لاہور میں حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب بھی بہت علیل تھے۔آپ کے لئے شوہر کو چھوڑنا بھی مشکل تھا اور اِدھر حضرت اماں جان کی طبیعت بھی