خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 167 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 167

خطابات مریم 167 خطابات میری عزیزہ بچیو! دنیوی تعلیم سے آپ کو کوئی نہیں روکتا لیکن یہ مد نظر رہے کہ دنیا کے جتنے علوم ہیں سب قرآن مجید کے پاک چشمہ سے نکلی ہوئی نہریں ہیں۔تمام علوم کا منبع قرآن مجید ہے۔آپ اصل کو چھوڑ دیتی ہیں اور نقل اختیار کر لیتی ہیں قرآن سیکھیں گی تو اللہ تعالیٰ آپ کے ذہنوں میں وہ جلا پیدا کرے گا جس سے دنیوی علوم آپ پر آسان ہو جائیں گے۔حضرت مصلح موعود نے اپنی ایک تقریر سیر روحانی میں جماعت سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا۔پس اے دوستو ! میں اللہ تعالیٰ کے اس عظیم الشان خزانہ سے تمہیں مطلع کرتا ہوں۔دنیا کے علوم اس کے مقابلہ میں بیچ ہیں۔دنیا کی تمام تحقیقا تیں اس کے مقابلہ میں بیچ ہیں اور دنیا کی تمام سائنس اس کے مقابلہ میں اتنی حقیقت بھی نہیں رکھتی جتنی سورج کے مقابلہ میں ایک کرم شب تاب حقیقت رکھتا ہے۔دنیا کے علوم قرآن کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں، قرآن ایک زندہ خدا کا زندہ کلام ہے اور وہ غیر محدود معارف و حقائق کا حامل ہے۔یہ قرآن جیسے پہلے لوگوں کے لئے کھلا تھا اسی طرح آج ہمارے لئے کھلا ہے، یہ ابو بکر کے لئے بھی کھلا تھا ، یہ عمر کے لئے بھی کھلا تھا، یہ عثمان کے لئے بھی کھلا تھا ، یہ علی کے لئے بھی کھلا تھا یہ بعد میں آنے والے ہزار ہا اولیاء وصلحاء کے لئے بھی کھلا تھا اور آج جب کہ دنیا کے علوم میں ترقی ہو رہی ہے یہ پھر بھی کھلا ہے بلکہ جس طرح د نیوی علوم میں آجکل زیادتی ہو رہی ہے اسی طرح قرآنی معارف بھی آجکل نئے سے نئے نکل رہے ہیں۔یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے اچھا تاجر پہلے اپنا مال مخفی رکھتا ہے، مگر جب مقابلہ آ پڑتا ہے تو پہلے ایک تھان نکالتا ہے پھر دوسرا تھان نکالتا ہے پھر تیسرا تھان نکالتا ہے اور یکے بعد دیگرے نکالتا ہی جاتا ہے یہاں تک کہ تھانوں کا انبار لگ جاتا ہے۔اسی طرح جب بھی دنیا ظاہری علوم میں ترقی کر جانے کے گھمنڈ میں قرآن کا مقابلہ کرنا چاہے گی ، قرآن اپنے ماننے والوں سے کہے گا میاں! ذرا میرے فلاں کمرہ کو تو کھولنا۔اسے کھولا جائے گا تو دنیا کے تمام علوم اس کے مقابلہ میں بیچ ہو کر رہ جائیں گے۔پھر ضرورت پر وہ دوسرا کمرہ کھولے گا اور پھر تیسرا اور اس طرح ہمیشہ ہی دنیا کو