خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 605
605 ایک اشارہ پر اپنی جان مال قربان کر دینے کو تیار ہیں۔جب تک دنیا کو عملی طور پر یہ نظر نہ آئے کہ واقعی یہی جماعت اتنی قربانی دینے والی، اتنی اطاعت گزار، اتنی خلافت سے محبت رکھنے والی جماعت ہے کہ حقیقت میں اس کی خواتین اور بچیاں بھی خلیفہ وقت کی ایک آواز پر اپنا سب کچھ قربان کر دینے کو تیار ہیں اگر یہ نظارہ دنیا کو نظر آ جائے تو آپ کی کسی زبانی تقریر اور دعوے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ہم منہ سے تو بہت کچھ کہتے ہیں۔ہمارا عمل اس کے خلاف ہوتا ہے۔قدر کا طریق سب سے پہلا تو یہی ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی صحت لمبی عمر ، آپ کے مقاصد میں کامیابی اور آپ کے ذریعہ سے اسلام کا جھنڈا ساری دنیا میں لہرائے جانے کی دعا درد دل سے پانچوں نمازوں میں اور تہجد میں ہر بچی اور ہر عورت کرے۔یہ وہ دعا ہے جو صرف آپ کے لئے دعا نہیں ہے بلکہ ساری جماعت کے لئے دعا ہے۔آپ کے ساتھ دعا کرنے میں ساری جماعت آجاتی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطا کرے۔اللہ تعالیٰ آپ کو صحت کے ساتھ اپنے تمام مقاصد میں اعلیٰ کامیابی عطا فرمائے۔جس غرض سے اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو قائم کیا ہے کہ دنیا میں صرف ایک ہی مذہب ہو۔اسلام۔اور ساری دنیا ایک ہی کلمہ پڑھتی ہو اور ساری دنیا ایک ہی جھنڈے تلے جمع ہو جائے اور ساری دنیا نبی کریم ﷺ کو اپنا نجات دہندہ مان لے اور ساری دنیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی غلامی میں آجائے وہ مقصد جلد تر پورا ہو۔یہ تو خدا کا وعدہ ہے اور جس بات کا خداوعدہ کر لے زمین و آسمان ٹل جائیں۔نئی زمین و آسمان پیدا ہوں اور وہ بھی ختم ہو جائیں لیکن خدا کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں کبھی بدل نہیں سکتیں۔الہی تقدیر ہے جماعت کو ترقی ہو گی۔ابھی تقدیر ہے جو خدا نے اپنے مسیح سے وعدے کئے تھے کہ تین سو سال نہیں گزریں گے کہ احمدیت کا غلبہ ساری دنیا میں ہو جائے گا۔لیکن نہایت ہی بد قسمت ہوں گے ہم اس نسل کی خواتین اور بچیاں اگر ان قربانیوں میں ہمارا ہاتھ نہ ہو لیکن قربانیاں دینے کے لئے ضرورت ہے اپنے دل کو بدلنے کی۔اپنی روح کو بدلنے کی ، خدا کے حضور عاجزانہ سجدے کرنے کی اور اپنی تربیت کرنے کی۔ہم اپنی رپورٹوں میں تو یہ لکھ دیتے ہیں کہ بڑے وعظ کئے، بڑی نصیحتیں کیں ، فلاں چیز پر مضمون پڑھ کر سنایا گیا۔لیکن اگر اس کا عمل ہمیں نظر نہ آئے جس کا مظاہرہ ہمارے جلسوں میں بھی ہوتا رہتا ہے تو ہمارے لئے نہایت ہی شرم کی بات ہے۔آج بہت سی اور بہنوں نے بھی میرے علاوہ اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ہم چاہے تھوڑا کام کریں لیکن جو دعوی کریں اس کو پورا کر نیوالیاں ہوں۔یہود کی سب سے بڑی بُرائی قرآن مجید میں یہی بتائی گئی ہے لِمَ تَقُولُونَ مَالَا تَفْعَلُونَ (الصف : 3)