خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 604
604 اختتامی خطاب سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ مرکزیہ 1971ء تشہد تعوذ اور آیت کریمہ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِينَا أَوْ أَخْطَانَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَالَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ( البقرہ: 287) کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے ہم سب بہنوں کو توفیق عطا فرمائی۔اس اجتماع میں شمولیت کی اور اس کو کامیاب بنانے کی۔اپنی گزشتہ سال کی کارروائیوں کا جائزہ لینے کی اور آئندہ سال کے پروگرام بنانے کی۔دور دور سے بھی اور قریب سے بھی نمائندگان اور بچیاں اس گرمی کے موسم میں تکلیف اٹھا کر اجتماع میں شمولیت کی غرض سے آئیں۔اپنی طرف سے منظمات اور کارکنات نے ان کو ہر طرح کا آرام پہنچانے کی کوشش کی ہے لیکن پھر بھی انسان سے ہی غفلت ہوتی ہے۔اگر کسی مہمان کو یہاں کی کارکنات اور مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہو تو ہم سب اس کے لئے معذرت خواہ ہیں۔اس کے بعد میں تمام بہنوں اور بچیوں کو جنہوں نے انعامات حاصل کئے ہیں لجنات کو تہہ دل سے مبارکبار پیش کرتی ہوں۔اللہ تعالیٰ ان لجنات کو بھی جو کسی وجہ سے انعامات حاصل نہیں کر سکیں۔آئندہ سال زیادہ بہتر کام کرنے اور انعامات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔سب سے پہلی توجہ میں اپنی بہنوں کو جس بات کی طرف توجہ دلاتی ہوں وہ یہ ہے کہ ہماری ہر بچی کو، ہماری ہر بہن کو ان دنوں دعاؤں پر خصوصیت سے زور دینا چاہئے۔ہماری یہ چھوٹی سی ایک جماعت ہے جس کی بنیا د حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ قائم کی گئی۔لیکن یہی وہ ایک واحد جماعت ہے کہ جس کی قیادت اللہ تعالیٰ کی طرف سے خلیفہ وقت کو سپرد کی گئی ہے۔بڑی بڑی تنظیمیں ہیں دنیا میں۔بڑی بڑی انجمنیں ہیں ساری دنیا میں۔بڑے پیسے والے ممالک ہیں اور قومیں ہیں لیکن کوئی قوم یہ دعوی نہیں کر سکتی کہ بحیثیت قوم کے ہمارا کوئی ایسا لیڈر ہے جو ہماری روحانی قیادت کر رہا ہے۔یہ ایسا عظیم الشان انعام ہے کہ اس انعام کی وسعتوں کا تصور بھی دوسرے لوگ نہیں کر سکتے اس سے بڑا انعام اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا جو اللہ تعالیٰ نے محض اور محض اپنے فضل سے جماعت احمدیہ کو عطا کیا ہے اور وہ انعام ہے خلافت احمد یہ۔انعام کی قدر صرف زبانی دعووں سے نہیں کی جاسکتی۔ہم منہ سے کتنی ہی تقریریں کریں کہ ہم خلیفہ وقت کے