خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 79
79 جن کا اس نظام کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔حضرت مصلح موعود اپنی جلسہ سالانہ 1947 ء کی تقریر میں فرماتے ہیں۔” پس اے دوستو! دنیا کا نیا نظام دین کو مٹا کر بنایا جارہا ہے تم تحریک جدید اور وصیت کے ذریعہ سے اس نظام دین کو قائم رکھتے ہوئے تیاری کرو۔مگر جلدی کرو کہ دوڑ میں جو آگے نکل جائے وہی جنتی ہے تم جلد سے جلد وصیت کرو تا کہ جلد سے جلد نظام نو کی تعمیر ہو اور وہ مبارک دن آجائے جبکہ چاروں طرف اسلام اور احمدیت کا جھنڈا لہرانے لگے اس کے ساتھ ہی میں ان دوستوں کو مبارک باد دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی جو ابھی تک اس نظام وصیت میں داخل نہیں ہوئے توفیق دے کہ وہ بھی اس میں حصہ لے کر دنیوی برکات سے مالا مال ہوسکیں اور دنیا اس نظام سے ایسے رنگ میں فائدہ اٹھائے کہ آخر اسے یہ تسلیم کرنا پڑے کہ قادیان کی وہ ہستی جسے کورد یہ کہا جاتا تھا جسے جہالت کی بستی کہا جاتا تھا اس میں سے وہ نور نکلا جس نے ساری دنیا کی تاریکیوں کو دور کر دیا۔جس نے ساری دنیا کی جہالت کو دور کر دیا۔جس نے ساری دنیا کے دکھوں اور دردوں کو دور کر دیا اور جس 66 نے ہر امیر غریب ہر چھوٹے اور بڑے کو محبت اور پیار اور الفت با ہمی سے رہنے کی توفیق عطا فرمائی۔“ الفضل 5 جون 1948ء) حضرت مصلح موعود کو اللہ تعالیٰ نے یہ بھی الہام فرمایا تھا کہ پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح کے ساتھ اسلام کی ترقی وابستہ ہے۔اسلام کی ترقی کے لئے ہمیں اپنے ہر کام کو کم از کم پچاس فیصدی کے معیار تک پہنچانا چاہیے یہ کم سے کم معیار ہے۔ہر دینی کام میں شمولیت کا۔میں اس نوٹ کے ذریعے تمام لبنات اماءاللہ کی عہدیداران کو بھی توجہ دلاتی ہوں کہ وہ اپنے جلسوں میں مستورات کے سامنے نظام وصیت کی اہمیت کو بیان فرما ئیں۔الوصیت کا وہ حصہ جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس میں شمولیت کی شرائط بیان فرمائیں سنائیں اور بہنوں کو نظام وصیت میں شمولیت کی تحریک کریں اور کوشش کریں کہ ہر لجنہ کی احمدی مستورات کی وصایا کا معیار کم از کم پچاس فیصدی تک پہنچ جائے۔نیز اپنی رپورٹیں بھجواتے وقت اس میں یہ بھی ذکر ہو کہ انہوں نے وصیتیں کروانے کے لئے کیا کوشش کی اور اس کا کیا نتیجہ نکلا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو تو فیق عطا فرمائے کہ اشاعت اسلام کا جو کام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شروع فرمایا تھا اور جو درخت آپ نے بویا تھا اور جس کی آب یاری آپ کے خلفاء کرتے چلے آئے ہیں اس کو ہم اپنی قربانیوں کے ذریعہ پروان چڑھائیں اور اسلام کی فتح اور غلبہ کا وہ دن جلد سے جلد طلوع ہو جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کیا تھا۔آمین ثم آمین۔الفضل 28 جون 1966 )