خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 77 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 77

نظام وصیت میں احمدی خواتین کی شمولیت اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے دنیا میں ایک نیا نظام قائم فرمایا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام فرمایا کہ اردت استخلف فخلقت ادم گویا اللہ تعالیٰ نے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آدم ثانی قرار دیا ہے جن کے ذریعے سے ایک نئی نسل اور ایک نئی جماعت صلحاء کی بنیاد پڑی۔اس مثالی معاشرہ کے قیام کی بشارت اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس الہام کے ذریعے دی کہ یادَمُ اسْكُنُ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ اور یہ بشارت بھی دی کہ اس معاشرہ کے قیام میں ایسے پاک اور نیک لوگ آپ کی ہر طرح مالی جانی مدد کریں گے جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کیا جائے گا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو کامیاب بنانے کے لئے ہر طرح کی قربانیاں دیں۔یہ بشارت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِی بِكَلِمَاتِ اللهِ خدا کی باتوں کو کوئی ٹال نہیں سکتا وہ اپنے وقت پر پوری ہوں گی مگر خوش قسمت ہوں گے وہ لوگ جو خدا کے بنائے ہوئے سلسلہ کی ترقی میں امام وقت کی مدد کریں گے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی ایسے لوگوں کو بشارت دیتے ہوئے اپنی کتاب الوصیت میں تحریر فرماتے ہیں خدا کی رضا کو تم کسی طرح پاہی نہیں سکتے جب تک تم اپنی رضا چھوڑ کر۔اپنی لذات چھوڑ کر۔اپنی عزت چھوڑ کر۔اپنا مال چھوڑ کر اپنی جان چھوڑ کر اس کی راہ میں وہ تلخی نہ اٹھاؤ جوموت کا نظارہ تمہارے سامنے پیش کرتی ہے۔لیکن اگر تم تلخی اٹھا لو گے تو ایک پیارے بچے کی طرح خدا کی گود میں آجاؤ گے اور تم ان راستبازوں کے وارث کئے جاؤ گے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور ہر ایک نعمت کے دروازے تم پر کھولے جائیں گے۔“ روحانی خزائن جلد 20 الوصیت صفحہ 307 اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اور اس کی راہ میں اشاعت اسلام کی خاطر مال خرچ کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نظام وصیت جاری فرمایا اور وصیت کرنے کا یہ طریق فرمایا کہ جو مرد یا عورت نظام وصیت میں شامل ہو وہ یہ وصیت کرے کہ اس کی وفات کے بعد اس کے ترکہ کا دسواں حصہ سلسلہ احمدیہ کے لئے وقف ہوگا جو حضرت مسیح موعود کے فرمان کے مطابق اشاعت اسلام اور تبلیغ احکام قرآن میں خرچ ہوگا۔پھر آپ تحریر فرماتے ہیں