خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 74 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 74

74 لیکن جہاں جماعت سے بے حد محبت تھی اور جو ان سے محبت رکھتے تھے ان کی قدر فرماتے تھے وہاں معمولی سی بات بھی جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے خلاف ہو یا نظام سلسلہ کے خلاف ہو یا خلافت پر زد پڑتی ہو برداشت نہ کر سکتے تھے۔عورتوں میں جہالت سے پیروں کو احتراماً ہاتھ لگانے کی عادت ہوتی ہے۔کئی دفعہ گاؤں کی عورتیں ملاقات کے لئے آتیں تو پاؤں کو ہاتھ لگانے کی کوشش کرتیں۔آپ کا چہرہ سرخ ہو جاتا اور سختی سے منع فرماتے کہ یہ شرک ہے۔مصلح موعود کے متعلق پیش گوئی تھی کہ دل کا حلیم ہوگا۔کارکنوں کو صحیح رنگ میں کام نہ کرنے پر اکثر ناراض بھی ہوئے سزا بھی دی مگر مجھے معلوم تھا کہ ناراض ہو کر خود افسردہ ہو جاتے تھے۔مجبوری کی وجہ سے سزا دیتے کہ ان کو صیح طریق پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی عادت پڑے کئی دفعہ ایسا ہوا کہ کوئی کام وقت پر ختم نہ ہونے پر دفتر کے بعض کارکنوں کو ہدایت دی کہ جب تک کام ختم نہ ہو گھر نہیں جانا اور پھر اندر آ کر کہنا کہ فلاں کیلئے کچھ کھانے کو بھجوا دو وہ گھر نہیں گیا بے چارہ دفتر میں کام کر رہا ہے۔جس دن ملک عبدالرحمن صاحب خادم کی وفات ہوئی اتفاق سے میرے گھر کوئی لجنہ کی تقریب تھی۔بہت سی بہنیں آئی ہوئی تھیں چائے وغیرہ کا انتظام تھا۔چائے پی رہے تھے کہ اچانک تار کے ذریعہ خادم صاحب کی وفات کی اطلاع ملی۔اوپر سے مجھے آواز دی اور بلوایا اور کہنے لگے کہ خادم صاحب کی وفات ہو گئی ہے۔سلسلہ کے ایک دیرینہ خادم کا جنازہ آرہا ہے اور تم سب نیچے چائے پی رہے ہو سب کو رخصت کرو ساتھ ہی انتہائی غم کا اظہار کیا۔میں نے نیچے آکر آئی ہوئی بہنوں سے ذکر کیا تو سب خاموشی سے چلی گئیں اسی طرح جب ڈاکٹر غفور الحق صاحب کی وفات کی اطلاع کوئٹہ سے ملی کہ جنازہ لایا جا رہا ہے اس دن صاحبزادی امتہ الباسط کے ہاں شائد بچی کا عقیقہ تھا۔ہم سب نے اس کے گھر جانا تھا حضور نے روک دیا کہ نہیں جانا وہ لوگ جنازہ لے کر آرہے ہیں تم لوگ کیسے جا سکتے ہو؟ قادیان کا ذکر ہے میری شادی کے شائد ایک سال کے بعد کا حضور نماز پڑھ کر مسجد سے آرہے تھے حضرت اماں جان کے صحن میں ایک بوڑھی عورت آپ کے انتظار میں کھڑی تھی آپ آئے تو اس نے بات شروع کر دی جیسا کہ گاؤں کی عورتوں کا قاعدہ ہے کہ لمبی بات کرتی ہیں اس نے خاصی لمبی داستاں سنانی شروع کر دی حضور کھڑے ہوئے توجہ سے سنتے رہے میری طبیعت خراب تھی میں کھڑی نہ رہ سکی پاس تخت پر بیٹھ گئی جب وہ عورت بات ختم کر کے چلی گئی تو آپ نے فرمایا کہ تم کیوں بیٹھ گئی تھی یہ وہ لوگ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی ماننے والوں اور قربانی کرنے والوں میں سے ہیں میں تو اس کے احترام کے طور پر کھڑا ہو گیا اور تم بیٹھ گئی میں نے بتایا کہ میری طبیعت بہت خراب تھی آپ نے فرمایا طبیعت خراب تھی تو تم چلی جاتی۔اس واقعہ سے بھی آپ کو -