خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 63
63 جامہ میں پھولا نہیں سماتا تھا میں نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور ایک عرصہ تک کرتا رہا کہ خدایا مجھے تیری ذات کے متعلق کبھی شک پیدا نہ ہو۔ہاں اس وقت میں بچہ تھا اب مجھے زائد تجربہ ہے اب میں اس قدر زیادتی کرتا ہوں کہ خدایا مجھے تیری ذات کے متعلق حق الیقین پیدا ہو۔“ تاریخ خلافت ثانیہ شاہد ہے دوست بھی اور دشمن بھی کہ آپ کبھی کسی بڑے سے بڑے ابتلاء پر نہیں گھبرائے۔ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر کامل تو کل رہا اور اپنے اس یقین کو بڑے تحدی سے دنیا کے سامنے پیش فرماتے رہے جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہا ما بتا دیا کہ آپ ہی مصلح موعود ہیں تو آپ نے فرمایا۔”خدا تعالیٰ نے مجھے اس غرض کے لئے کھڑا کیا ہے کہ میں محمد رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں اور اسلام کے مقابل میں دنیا کے تمام باطل ادیان کو ہمیشہ کی شکست دے دوں دنیا زور لگا لے وہ اپنی تمام طاقتوں اور جمعیتوں کو اکٹھا کر لے۔عیسائی بادشاہ بھی اور ان کی حکومتیں بھی مل جائیں۔یورپ بھی اور امریکہ بھی اکٹھا ہو جائے دنیا کی تمام بڑی بڑی مال دار اور طاقتور قو میں اکٹھی ہو جائیں اور وہ مجھے اس مقصد میں نا کام کرنے کے لئے متحد ہو جائیں پھر بھی میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ میرے مقابلہ میں ناکام رہیں گی اور خدا میری دعاؤں اور تدابیر کے سامنے ان کے تمام منصوبوں اور مکروں اور فریبوں کو ملیا میٹ کر دے گا۔“ الموعود صفحہ 212,211) آپ کے باون سالہ دور خلافت کا ایک ایک دن شاہد ہے زمین اور آسمان گواہ ہیں کہ مخالفتوں کی آندھیاں چلیں فتنے اٹھے۔جماعت کو نیست و نابود کرنے کی کوششیں کی گئیں۔آپ کی جان پر حملہ کیا گیا مگر آپ کو اللہ تعالیٰ پر کامل تو کل رہا اوراللہ تعالیٰ کا سایہ ہر آن آپ پر رہا جب تک کہ نفسی نقطہ آسماں کی طرف اٹھائے جانے کا وقت نہ آ گیا۔انسان جس ہستی سے محبت کرتا ہے اس سے ناز بھی کرتا ہے اور وہ اپنی محبوب ہستی کے ناز بھی اٹھاتا ہے آپ کے مضمون کا اقتباس درج ذیل کرتی ہوں جس سے اس مضمون پر روشنی پڑتی ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں۔کچھ دن ہوئے ایک ایسی بات پیش آئی کہ جس کا کوئی علاج میری سمجھ میں نہیں آتا تھا اس وقت میں نے کہا کہ ہر ایک چیز کا علاج خدا تعالیٰ ہی ہے اس سے اس کا علاج پوچھنا چاہیے اس وقت میں نے دعا کی اور وہ ایسی حالت تھی کہ میں نفل پڑھ کر زمین پر ہی لیٹ گیا اور جیسے بچہ ماں باپ سے ناز کرتا ہے اسی طرح میں نے کہا کہ اے خدا! میں چار پائی پر نہیں زمین پر ہی سوؤں گا۔اس وقت مجھے خیال آیا کہ حضرت خلیفہ اول نے مجھے کہا ہوا ہے کہ تمہارا معدہ خراب ہے اور زمیں پر سونے سے معدہ اور زیادہ خراب ہو جائے گا