خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 62
جماعت منتشر ہو جائے گی اس کا اتحادٹوٹ جائے گا لیکن خلیفہ اسیح الثانی کو اللہ تعالیٰ کی ہستی پر کامل یقین تھا اور یہ یقین تھا کہ یہ ردا اس نے پہنائی ہے اسے کوئی اتار نہیں سکتا۔بڑے سے بڑا فتنہ اٹھے بڑے سے بڑا دشمن مقابل میں آئے وہ بہر حال شکست کھائے گا۔سب سے پہلے پیغامیوں کا فتنہ اٹھا ان کو زعم تھا کہ جماعت کے سر کردہ ہمارے ساتھ ہیں آہستہ آہستہ ساری جماعت ہمارے ساتھ ہو جائے گی لیکن اللہ تعالیٰ حضرت خلیفتہ اسیح کو الہام بتا چکا تھا کہ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا۔آپ کے اطاعت گزار آپ کے نہ ماننے والوں پر ہمیشہ غالب رہیں گے۔چنانچہ آپ نے علی الاعلان ان کو چیلنج دیا کہ پھیر لو جتنی جماعت ہے میری بیعت میں باندھ لو ساروں کو تم مکر کی زنجیروں سے پھر بھی مغلوب رہو گے مرے تا یوم البحث تقدیر خداوند کی تقدیروں سے ہے اور دنیا نے دیکھ لیا کہ اس پاک وجود کے سر پر واقعی خدا کا سایہ تھا۔جنہوں نے اس کی مخالفت کی وہ ناکام رہا اور جس نے اس مسیحی نفس سے تعلق رکھا اس نے روح الحق کی برکت سے بیماریوں سے نجات پائی۔ایمان باللہ کے ایمان افروز نمونے اللہ تعالیٰ پر جو آپ کو ایمان تھا اس کی ابتداء جس رنگ میں ہوئی اس کا بیان میں آپ کے ہی الفاظ میں تحریر کرتی ہوں۔1900 میرے قلب کو اسلامی احکام کی طرف توجہ دلانے کا موجب ہوا ہے۔میں گیارہ سال کا تھا حضرت مسیح موعود کے لئے کوئی شخص چھینٹ کی قسم کے کپڑے کا ایک بجبہ لایا تھا کسی اور خیال سے نہیں بلکہ اس لئے کہ اس کا رنگ اور اس کے نقش مجھے پسند تھے میں اسے پہن نہیں سکتا تھا کیونکہ اس کے دامن میرے پاؤں سے نیچے لٹکتے رہتے تھے۔جب میں گیارہ سال کا ہوا اور 1900 نے دنیا میں قدم رکھا تو میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں خدا تعالیٰ پر ایمان کیوں لاتا ہوں اس کے وجود کا کیا ثبوت ہے؟ میں دیر تک رات کے وقت اس مسئلہ پر سوچتا رہا۔آخر دس گیارہ بجے میرے دل نے فیصلہ کیا کہ ہاں ایک خدا ہے وہ گھڑی میرے لئے کیسی خوشی کی گھڑی تھی جس طرح ایک بچے کو اس کی ماں مل جائے تو اسے خوشی ہوتی ہے اسی طرح مجھے خوشی تھی کہ میرا پیدا کرنے والا مجھے مل گیا سماعی ایمان علمی ایمان سے تبدیل ہو گیا۔میں اپنے