خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 779 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 779

779 خطاب ممبرات لجنہ گوکھو وال ضلع فیصل آباد تشہد، تعوذ کے بعد فرمایا:۔آنحضرت ﷺ کواللہ تعالیٰ نے دنیا میں کامل استاد بنا کر بھیجا۔اور آپ کو مساوات کی تعلیم عطا کی۔آپ نے فرمایا بحیثیت انسان سب برابر ہیں کسی کو کسی پر کوئی ترجیح نہیں۔مسلمانوں کو آج بھی ترقی کی راہوں پر گامزن ہونے کے لئے اسی تعلیم پر عمل پیرا ہونا چاہئے۔آپ نے فرمایا جہاں مساوات پر عمل مسلمانوں کے لئے ضروری ہے۔وہاں تنظیم اور اتحاد بھی ان میں قائم ہونا چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ مایا کنگھی کی مثال لے لو۔اگر اس کا ایک دندانہ ٹوٹ جائے تو وہ بیکار ہو جاتی ہے۔اسی طرح جب تک مسلمانوں میں تنظیم اور اتحاد قائم رہے گا وہ مضبوط رہیں گے۔آپ نے فرمایا کہ ہمارے آقا محمد مصطفی ﷺ کی سچی پیروی سے ہی خدا ملتا ہے۔اور ہمیں دنیا کو اسلام سکھانے کے لئے دو باتوں کی اشد ضرورت ہے۔اول قرآن مجید پڑھنا۔دوم اس پر عمل کر کے دنیا کو دکھانا۔قرآن کریم پڑھنا اور اس کے مطالب جاننا از حد ضروری ہے جب تک ہمیں مطلب نہیں آئے گا۔ہم کس طرح جان سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کن باتوں کے کرنے کا حکم دیا ہے۔اور کن باتوں کے کرنے سے روکا ہے۔آپ نے فرمایا کہ اگر کسی ان پڑھ عورت کے رشتہ دار کا خط آتا ہے تو وہ کئی کئی بار خط کو دوسروں سے پڑھوا کر سنتی ہے کہ کہیں کوئی بات رہ تو نہیں گئی۔تو یہ خط اللہ تعالیٰ نے بندوں کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے۔یعنی قرآن کریم اس کے پڑھنے اس کے سننے اور سیکھنے کے لئے تو بہت توجہ بہت محنت اور بہت کوشش کی ضرورت ہے۔آپ نے فرمایا کہ آج ہمارا سب سے بڑا فرض حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق یہی ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کے دلوں میں قرآن کریم کا پیار اس طرح رچائیں کہ اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے سفر اور حضر ہر جگہ وہ قرآن کریم کا ورد کرنے والے ہوں۔آیئے ہم عہد کریں کہ جن کو قرآن کریم ناظرہ نہیں آتا ان کو ناظرہ سکھائیں گے جن کو ناظرہ آتا ہے ان کی توجہ ترجمہ کی طرف پھیر دیں گے اور جن کو ترجمہ آتا ہے۔انہیں تغییر سکھانے کی کوشش کریں گے۔خود بھی سیکھیں گے اور دوسروں کو بھی سکھائیں گے۔آپ نے فرمایا موجودہ دور میں بے راہ روی اور مغرب زدگی کے بڑھتے ہوئے بُرے اثرات سے اپنے بچوں کو بچانے کے لئے قرآن کریم خود سیکھنا اور ان کو سکھانا بہت ضروری ہے۔بہنوں نے تاریخ اسلام