خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 61
61 تمہیں تقریر کرنی نہیں آئے گی۔اس موضوع پر میں تمہارے سامنے تقریر کرتا ہوں تم غور سے سنو ضروری حوالہ جات وغیرہ نوٹ کرو اور پھر انہیں نوٹوں کی مدد سے تم تقریر کرو میں سنوں گا۔غرض آپ نے اس موضوع پر جواب مجھے یاد نہیں رہا تقریر فرمائی۔اور پھر میں نے جو آپ کی تقریر کے نوٹ لئے تھے وہ دیکھے ان میں اصلاح فرمائی اور ان پر از سر نو مضمون تیار کر کے تقریر کرنے کے لئے کہا چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔اس طرح آہستہ آہستہ مشق ہوتی گئی۔ہر جلسہ سالانہ کے موقع پر جب آپ تقریر کرنے کے لئے جانے لگتے تو کہتے تھے کہ میری تقریر کے نوٹ ضرور لینا میں آکر دیکھوں گا۔اس ضمن میں ایک لطیفہ بھی یاد آ گیا۔حضور کی بیٹی امتہ لعزیز کو جب پہلی بار حضور کی جلسہ سالانہ کی تقریر اچھی طرح سمجھ آئی اور لطف آیا تو گھر آکر کہنے لگی کہ ابا جان کو بھی تقریر کرنی آگئی ہے۔انہوں نے سنا تو کہنے لگے کہ معلوم ہوتا ہے کہ آج اسے پہلی بار میری تقریر سمجھ میں آئی ہے۔اس کے نزدیک تو مجھے آج ہی تقریر کرنی آتی ہے۔حضور کی تقریروں کے نوٹ لے لے کر خدا تعالیٰ کے فضل سے تیز لکھنے کی عادت پڑی۔اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ کتنا ہی تیزی سے مضمون لکھواتے تھے لکھ لیتی تھی۔سب سے پہلی دفعہ آپ نے اپنی جس تقریر کے نوٹ مجھے املاء کروائے تھے وہ نظام نو والی تقریریتی آپ لکھواتے گئے میں لکھتی گئی۔جب نوٹ مکمل ہو گئے تو فرمانے لگے کچھ سمجھ آیا میں نے جو کچھ آپ نے لکھوایا تھا وہ بتانا شروع کیا کہنے لگے نہیں یہ تو تمہیدیں ہیں یہ قرآن مجید۔احادیث کے حوالہ جات ہیں ان میں سے میں کس مضمون کی طرف آنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا یہ تو مجھے نہیں آئی کہنے لگے یہی تو کمال ہے کہ سارا کا سارا مضمون اشاروں میں لکھوایا اور تم بتا نہ سکی کہ کیا موضوع میری تقریر کا ہوگا۔میں نے عرض کی پھر بتا ئیں۔کہنے لگے نہیں اب جلسہ سالانہ پر ہی سننا۔آپ کی تمام زندگی قرآن مجید کی آیت اِنَّ صَلَاتِی و نُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الانعام : 163) کے مطابق گزری ہے۔آپ کی تیس سالہ رفاقت میں میں نے یہی مشاہدہ کیا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی ہستی پر جیسا عظیم الشان ایمان تھاوہ سوائے انبیاء کے کسی اور وجود میں نظر نہیں آتا آپ کے باون سالہ دور خلافت میں کتنے فتنے اٹھے بظاہر ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ دنیا نے سمجھ لیا کہ اب یہ