خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 59 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 59

59 آپ کا ہاتھ بٹاؤں۔بار بار آپ نے اس کا اظہار فرمایا کہ میں نے تم سے شادی اسی غرض سے کی ہے اور میں خود بھی اپنے والدین کے گھر سے یہی جذ بہ لے کر آئی تھی۔شادی کے موقع پر ابا جان کی نصائح میرے ابا جان نے شادی کے موقع پر مجھے جو نصائح لکھ کر دی تھیں۔ان میں یہ سطور بھی لکھ کر دی تھیں:۔"مریم صدیقہ ! خدا تعالیٰ کا شکر کرو کہ اس نے اپنے فضل سے تم کو وہ خاوند دیا ہے جو اس وقت روئے زمین پر بہترین شخص ہے اور جو دُنیا میں اس کا خلیفہ ہے۔دُنیا اور دین دونوں کے علوم کے لحاظ سے کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔خاندانی عزت اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتی ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیٹا ہے اور جس کی بابت ان کی وحی یہ ہے فرزند دلبند - گرامی ارجمند مظهر الْحَقِّ وَالْعُلَى كَأَنَّ اللَّهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ ـ وہ جلد جلد بڑے گا۔دل کا حلیم سخت ذکی اور فہیم ہوگا۔اسیروں کی رستگاری کرے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔فضل عمر بشیر الدین۔۔علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔وغیرہ وغیرہ۔(مفہوم)۔پس تم اپنی خوش قسمتی پر جس قدر بھی ناز کرد بجا ہے۔“ ای تسلسل میں آگے چل کر آپ لکھتے ہیں:۔مریم صدیقہ اتم انداز نہیں کرسکتیں کہ حضرت خلیفہ اسی پر خدمت دین کا کتا بوجھ ہے اور اس کے ساتھ کس قدر ذمہ داریاں اور تفکرات اور ہموم و غموم وابستہ ہیں اور کس طرح وہ اکیلے تمام دنیا سے برسر پیکار ہیں اور اسلام کی ترقی اور سلسلہ احمدیہ کی بہبودی کا خیال ان کی زندگی کا مرکزی نکتہ ہے۔پس اس مبارک وجود کو اگر تم کچھ بھی خوشی دے سکو اور کچھ بھی ان کی تکان اور تفکرات کو اپنی بات چیت، خدمت گذاری اور اطاعت سے ہلکا کر سکو تو سمجھ لوکہ تمہاری شادی اور تمہاری زندگی بڑی کامیاب ہے اور تمہارے نامہ اعمال میں وہ ثواب لکھا جائے گا جو بڑے بڑے مجاہدین کو ملتا ہے۔“ میری زندگی کا نصب امین حضرت ابا جان کی وقت رخصت نصیحت اور شادی کے معا بعد حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی آرزو دونوں نے ملکر سونے پر سہاگہ کا کام کیا اور زندگی کا نصب العین صرف اسلام کی خدمت اور حضرت