خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 751
751 بن کر آئے ہیں۔اس لئے ہمارے لئے یہ نہایت ضروری ہے۔کہ ہم ہر قسم کی رسوم سے خود بھی بچیں۔اور دوسروں کو بھی بچائیں۔آپ نے خاص طور پر شادی بیاہ میں سسرال والوں کو جوڑے دینے کی رسم چھوڑنے کی طرف توجہ دلائی۔اور فرمایا کہ اسلام نے سادگی پر بڑا زور دیا ہے۔تکلفات سے بچنا اور سادگی اختیار کرنا تحریک جدید کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔اس طرح سے جو پیسے بچیں انہیں دین کی ضروریات کے لئے دیا جائے۔آپ نے فرمایا کہ شادی تو اس لئے کی جاتی ہے کہ تقوی شعار بیوی سے تعلق قائم کیا جائے نہ کہ جوڑوں اور جہیز حاصل کرنے کے لئے آپ نے اس کی تمام تر ذمہ داری لڑکے والوں پر ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اس موقعہ پر انہیں جوڑے ملیں بھی تو وہ انہیں ہرگز قبول نہ کریں۔اور اعلیٰ دینی روح پیدا کرتے ہوئے ثابت کر دیں کہ شادی کی اصل غرض صرف تقوی شعار بیوی حاصل کرنا ہے۔زاں بعد آپ نے گجرات کی لجنہ کو اپنی مستی دور کرنے اور لجنہ کے کاموں میں لجنہ کے اجلاسوں میں زیادہ سے زیادہ شریک ہونے کی ہدایت فرمائی۔اور فرمایا کہ ضلع کی لجنہ ہونے کے لحاظ سے ان پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے نہ صرف اپنی سستی دور کریں۔بلکہ اپنے ضلع کی لجنہ کی ممبرات بھی نگرانی کریں۔جماعتی تنظیموں میں پوری طرح شامل ہونا ہر احمدی پر فرض ہے۔تنظیموں کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ سب ممبرات اس میں پوری طرح حصہ لیں۔تھوڑے سے وقت کی قربانی کر کے اجلاسوں میں آنا آپ سب کے لئے بڑی برکات کا موجب ہوگا۔آخر میں آپ نے فضل عمر فاؤنڈیشن کی تحریک اور مسجد ڈنمارک کے چندے کی تحریک فرمائی اور دعا فرمائی کہ خدا تعالیٰ ہم سب کو خلافت سے وابستہ رکھے۔اور یہ انعام ہم میں ہمیشہ قائم رہے اور ہماری زندگی اور موت خدا تعالیٰ کے لئے ہی ہو۔مصباح جون 1967ء