خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 745
745 ناصرات الاحمدیہ اور چندہ وقف جدید ناصرات الاحمد یہ خوش ہو کہ تم سے بھی قربانی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔عمل صالح حقیقت میں وہی ہے جو موقع اور محل کے لحاظ سے کیا جائے۔کس وقت کے لئے کونسی قربانی مناسب ہے۔یہ جماعت کا امام ہی بتا سکتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔الامَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ (بخاری کتاب الجهاد) حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے ناصرات الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ سے مطالبہ فرمایا ہے کہ وہ بجٹ وقف جدید میں پچاس ہزار روپے ادا کریں۔اور اس کے لئے فی بچہ صرف ایک اٹھنی ماہوار کا مطالبہ فرمایا ہے۔بچے عموماً اتنی رقم کھانے پینے پر خرچ کر دیتے ہیں اور اس اٹھنی کا بچانا اور اشاعت اسلام کے لئے دینا جہاں اسلام کی اشاعت کا موجب ہوگا وہاں بچیوں میں سادگی، کفایت شعاری ، قوم اور مذہب کی خاطر قربانی کا جذبہ بھی پیدا کرے گا۔پس میری بچیو! حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہر ماہ ایک اٹھنی حضور کی خدمت میں پیش کرو۔اور دنیا کو بتا دو کہ قربانی کرنے میں ہماری بچیاں اگر ایک طرف اپنی ماؤں، نانیوں اور دادیوں سے کسی طرح کم نہیں تو دوسری طرف اپنے بھائیوں سے بھی پیچھے نہیں رہیں گی۔تمام لجنات کی سیکر یٹریان ناصرات فوری طور پر بچیوں کو اس تحریک کی اہمیت سمجھا کر چندہ وصول کر کے بھجوائیں چندہ بھجواتے وقت وضاحت سے تحریر کریں کہ یہ وقف جدید کا چندہ ہے۔ناصرات کا ممبری کے چندہ سے اشتباہ نہ پیدا ہو۔جہاں ناصرات کی الگ سیکرٹری نہیں وہاں کی صدر اور سیکرٹری یہ کام کریں کہ پندرہ سال تک عمر کی بچیوں سے یہ چندہ وصول کر کے روانہ کریں۔اس تحریک پر ایک ماہ سے زائد گزر چکا ہے لیکن ابھی تک لجنات نے کما حقہ اس کی طرف توجہ نہیں دی۔ہر ماہ کی لجنہ کی رپورٹ میں اس کا با قاعدگی سے ذکر کیا جائے اور ان کی ناصرات کی طرف سے کتنا وقف جدید کا چندہ بھجوایا گیا۔اللہ تعالیٰ ہماری بچیوں کو بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین افضل 6 نومبر 1966ء