خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 734
734 چندہ مسجد ڈنمارک اور خواتین جماعت احمدیہ الحمد للہ ہفتہ زیر رپورٹ یعنی 16 تا 22 جولائی مسجد ڈنمارک کے لئے دو ہزار پانچ سو پچانوے روپے کے وعدہ جات موصول ہوئے اور تین ہزار پانچ سوتر اسی روپے نقد وصول ہوئے ہیں۔گذشتہ دو ہفتہ کی نسبت اس ہفتہ وعدہ جات اور وصولی کی رفتار نسبتا خوش کن رہی ہے لیکن ابھی تک چندہ کی وصولی معیاری نہیں۔مسجد کی تعمیر شروع ہے تعمیر ختم ہونے پر ہی صحیح اندازہ ہو سکے گا کہ کل خرچ کتنا آئے گا۔بہر حال ہم نے اللہ تعالیٰ کے حضور مسجد کا نذرانہ پیش کیا ہے۔یہ شرط نہیں لگائی کہ کتنی رقم خرچ آئے گی۔ملک ڈنمارک میں یہ پہلی مسجد ہوگی جو عورتوں کے چندوں سے بنائی جارہی ہے اور اس کا خرچ کلیتہ عورتوں نے اُٹھانا ہے خواہ کتنا ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔مَنْ بَنَى مَسْجِدًا يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ الله بَنَى اللهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ (بخارى كتاب الصلوة) کہ جو شخص مسجد بنائے اور اس کے بنوانے میں اس کی خواہش اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا ہونام و نمود منظور نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے اس کے برابر جنت میں مکان بنا دیتا ہے۔پس ہماری نیت چندہ دیتے ہوئے اور اس مسجد میں شرکت کی سعادت حاصل کرتے ہوے محض اللہ تعالیٰ کے دین کی اشاعت کا جذبہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا مد نظر ہونی چاہئے۔اس نیت سے مسجد کی تعمیر میں حصہ لیں تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق ویسا ہی گھر جنت میں آپ کو دیے گا۔پس میری بہنو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی روشنی میں مسجد کی تعمیر کے لئے اپنے مالوں کو خرچ کرو تا اللہ تعالیٰ کی رضا تمہیں حاصل ہو۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے فرمایا ہے:۔جماعت احمد یہ بے شک چندے دیتی ہے لیکن صحابہ والا انفاق اور تھا وہ کوشش کر کے اپنے اوپر غربت لائے تھے جب تک اسی طرح اتفاق نہ ہو ترقی ممکن نہیں ہوا کرتی اسی وجہ سے پہلی آیت میں جہاں خرچ کا حکم دیا ہے وہاں سرا کو پہلے رکھا ہے یہ بتانے کے لئے کہ اصل انفاق وہ ہے جو طبعی ہو اور اس میں کسی شہرت وغیرہ کا خیال نہ ہو۔جو انفاق طبعی ہو گا ظاہر ہے اس کے لئے طبیعت کو ابھارنا نہیں پڑے گا۔بلکہ اس کے ظہور کو بعض دفعہ روکنے کی ضرورت محسوس ہوگی پس وہی انفاق اس آیت کے ماتحت ہے جو طبعی ہو نہ کہ نفس پر خرچ کرنا تو طبعی ہو اور خدا کے راستہ میں خرچ کرنے لئے دوسرے کے کہنے کی ضرورت ہو۔جب