خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 733 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 733

733 لوگ موجود تھے ایک غربت کی وجہ سے تھوڑا خرچ کرنے والے اور دوسرے بہت خرچ کرنے والے۔جو لوگ تھوڑ ا خرچ کرنے والے تھے وہ کہہ سکتے تھے کہ ہماری قربانیاں تو وابل نہیں کہلاسکتیں اس لئے ان کی خاطر فرمایا کہ کل ہی سہی وہ تمہیں وابل جیسا فائدہ ہی دے دے گی۔والله بما تعملون بصیرا میں اس طرف اشارہ فرمایا کہ اللہ تعالی عمل کی اصل حقیقت دیکھتا ہے اس لئے تھوڑا دینے والا دوسرے کے مقابلہ میں کم دیتا ہے مگر چونکہ اس کے پاس جو کچھ ہوتا ہے ہے وہ دے دیتا ہے۔اس لئے اس کو اس طل سے وابل والا فائدہ پہنچ جاتا ہے۔یہ امر بھی یادرکھنا چاہئے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انفاق فی سبیل اللہ کی دو اغراض بیان فرمائی ہیں۔اول ابتغاء الرضات الله دوم تثبيتاً من انفسهم یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا حصول اور قوم کی مضبوطی۔اس وجہ سے میں نے اپنی جماعت کے لوگوں کو بارہا کہا ہے کہ جو شخص دینی لحاظ سے کمزور ہو وہ اگر اور نیکیوں میں حصہ نہ لے تو اس سے چندہ ضرور لیا جائے کیونکہ جب وہ خرچ کرے گا تو اس سے اس کو ایمانی طاقت حاصل ہوگی اور اس کی جرات اور دلیری بڑھ جائے گی اور وہ دوسری نیکیوں میں بھی حصہ لینے لگ جائے گا۔“ تفسير سورة البقرة صفحہ : 611 افسوس کہ ہفتہ زیر رپورٹ میں وعدہ جات اور وصولی دونوں کی مقدار میں کمی رہی ہے۔ہمارے چندے دینے کی غرض بھی اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اپنی قوم کی مضبوطی ہے اور یہی مسجد کی تعمیر کی غرض ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ۔۔۔کی شان اور اس کا جلال بلند ہو اور سلسلہ احمدیہ کو تقویت حاصل ہو۔اسلام کا غلبہ ہو۔پس میری بہنو جس نے اب تک اس تحریک میں حصہ نہیں لیا اور مسجد کیلئے چندہ نہیں دیا اس کے لئے اب بھی وقت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اور اسلام کی ترقی اور خود اپنے نفس کی مضبوطی کے لئے اس تحریک میں شامل ہوتا ہے نیکی اس کیلئے مزید نیکیوں کا زینہ بنے ہم نے سوا تین لاکھ روپے کی رقم بہت جلد پوری کرنی ہے۔اگر تمام لجنات اپنا فرض سمجھتے ہوئے پوری کوشش میں لگ جائیں تو اجتماع سے قبل یہ رقم پوری ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ ہم اسلام کے غلبہ اور سر بلندی کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہوں اور اللہ تعالیٰ کی محبت ہمیں حاصل ہو جاوے۔الفضل 28 جون 1966ء)