خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 732
732 تحریک بابت چندہ مسجد ڈنمارک ہفتہ زیر رپورٹ یعنی 16 جون تا 22 جون مسجد ڈنمارک کے لئے ایک ہزار سات سو چوالیس روپے کے وعدہ جات وصول ہوئے اور دو ہزار دو سو چورانوے روپے کی وصولی ہوئی۔جس میں سے ایک سو پچانوے روپے یعنی تین سوشلنگ لجنہ اماءاللہ نیروبی کی طرف سے ہیں۔گویا 22 جون تک کل وعدہ جات کی مقدار تین لاکھ بیس ہزار پانچ سو ساٹھ ہوگئی۔اور وصولی دو لاکھ پچھتر ہزار دو سو اکیانوے روپے الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ۔مسجد کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے فضل سے رکھی جا چکی ہے اور تعمیر کا کام سرعت سے جاری ہے۔تمام لجنات اماءاللہ کی عہدیداران پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جلد از جلد وعدہ جات کی ادائیگی کا انتظام کریں اور جو بہن ابھی تک اس تحریک میں شامل نہ ہوئی ہوا سے شامل کرنے کی تحریک کریں۔تا مسجد کی تعمیر میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ رہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:۔وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَتَثْبِيتًا مِّنْ أَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبُوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَاتَتْ أكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِنْ لَّمْ يُصِبُهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ﴿البقره : 266 یعنی جو لوگ اپنے مال اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اور اپنے آپ کو مضبوط کرنے کیلئے خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کی حالت اس باغ کی حالت کے مشابہ ہے جو اونچی جگہ پر ہو اور اس پر تیز بارش ہوئی ہو جس کی وجہ سے وہ اپنا پھل دو چند لایا ہو اور اس کی یہ کیفیت ہو کہ اس پر زور کی بارش نہ پڑے تو تھوڑی سی بارش ہی اس کیلئے کافی ہو جائے اور جو کچھ تم کر ہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔اس آیت کی تفسیر میں حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ :۔”اس تمثیل میں کہ سچے مومن کا دل ایک باغ کی طرح ہوتا ہے۔جس میں نیک اعمال کے ہرے بھرے پودے کھڑے ہوتے ہیں جب وہ صدقہ خیرات کرتا ہے تو خواہ وہ صدقہ بارش کی طرح ہویا معمولی شبنم کی طرح ہو تب بھی وہ اس نیکی کے بابرکت نتائج حاصل کر لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی جزا دل کے اخلاص پر مبنی ہوتی ہے نہ کہ مال کی مقدار اور یکسانیت پر۔صحابہ کرام میں دونوں قسم کے