خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 731
731 تو اس لئے کہ وہ ان کے مدارج کو بلند کرنا چاہتا ہے چنانچہ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی نبی کو دنیا میں بھیجتا ہے تو اُسے نئے سرے سے ایک جماعت قائم کرنی پڑتی ہے مگر اس کی اتباع یہی ہوتی ہے کہ دنیا اسے دیکھ کر یہ خیال بھی نہیں کر سکتی کہ وہ کامیاب ہو جائے گا۔لیکن خدا تعالیٰ اس کے ذریعہ دنیا کے نظام کو بدل دیتا ہے اس وقت دنیا کو معلوم ہوتا ہے کہ ایک زندہ خدا موجود ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں ایسے انبیاء کے زمانہ میں ان کی قوموں اور امتوں کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ دین کی خدمت کریں چونکہ وہ وقت ایک نئی دنیا کی تعمیر کا ہوتا ہے اس لئے لوگوں کو قربانیوں کا موقعہ دیا جاتا ہے اور وہی وقت ثواب کے حصول کا ہوتا ہے۔تفسير كبير سورة بقره 604 پس میری بہنو! اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ایک نئی دنیا کی تعمیر مقدر رکھی ہے۔اس نئی دنیا کی تعمیر کے لئے مساجد تعمیر کی جاری ہیں تا خانہ خدا کی تعمیر کے ذریعہ اللہ تعالیٰ صداقت کی متلاشی روحوں کو ہدایت نصیب فرمائے۔اللہ تعالیٰ کی شان اور اس کا جلال بلند ہو۔ان مساجد کی تعمیر میں حصہ لینا بہت ہی بڑے ثواب کا موجب ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس نئی دنیا کی تعمیر میں حصہ لینے والوں میں شامل کرے۔جس نئی زمین اور آسمان کو بنانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے تھے۔مسجد ڈنمارک کی تعمیر بھی اس نئی زمین و آسمان کا ایک حصہ ہے اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے احمدی خواتین کو نوازا ہے اور موقع عطا فرمایا ہے کہ وہ بھی قربانیاں کریں اور اپنی قربانیوں کے ذریعہ ابدی زندگی حاصل کریں۔ابھی ہم نے باون ہزار روپیہ اور جمع کرنا ہے اور بہت جلد جمع کر کے دینا ہے پس کوشش کرنی چاہیے کہ کوئی ایک بہن بھی ایسی نہ رہ جائے جو اس سعادت اور نیکی میں اپنی لاعلمی سے حصہ لینے سے رہ جائے تمام عہدہ داران لجنہ کو چاہئے کہ ہر عورت تک اس بابرکت تحریک کو پہنچا ئیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اَلدَّالُ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ (سنن الترمزى كتاب العلم عن رسول الله، نیکی کی ترغیب دینے والے کو نیکی کرنے والے کی طرح ہی ثواب ملتا ہے۔ہر وہ بہن جو دوسری بہن تک اس تحریک کو پہنچائے گی دوہرے ثواب کی مستحق ہوگی۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسلام کی سربلندی کی خاطر پیش از پیش قربانیاں دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین اللھم آمین۔الفضل 23 جون 1966ء