خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 721 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 721

721 خطاب جلسه سیرت النبی عه لجنہ اماءاللہ ملتان عليسة 22 رمئی 1966ء کو ملتان میں حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ نے جلسہ سیرت النبی میں خطاب فرمایا۔آپ کی تقریر کا ایک ایک لفظ دل میں اترتا محسوس ہوتا تھا۔سامعین کی خاموشی سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ ہر شخص ہمہ تن گوش ہے۔آپ کی تقریر کا موضوع تھا۔آنحضرت ﷺ کے اخلاق صفات الہیہ کے مظہر ہیں۔سورہ فاتحہ اور درود شریف کی تلاوت کے بعد فرمایا۔دنیا میں ہزاروں مصلح ریفارمر اور لاکھوں انبیاء گزرے ہیں۔لیکن ان تمام لوگوں کی سیرت کا مطالعہ کرنے کے بعد ہر شخص اعتراف کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ایک ہی وجود اکمل ترین ہے۔جس کے اُسوہ حسنہ کا مطالعہ کرنے کے بعد دل کی گہرائیوں سے بے اختیار اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ کے الفاظ نکلتے ہیں۔اخلاق کی تعریف کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا اظہار جو اس کے بندوں کے ذریعے ہوتا ہے اخلاق کہلاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ان گنت صفات میں سے چار صفات ام الصفات کہلاتی ہیں۔جو رب العالمین، الرحمان الرحیم اور مالک یوم الدین ہیں۔چنانچہ خود آنحضرت کی شخصیت میں ربوبیت رحمانیت، رحیمیت اور مالکیت جیسی صفات خداوندی کے مظاہر موجود رہے۔آپ کی ساری عملی زندگی کی یقینی طور پر دنیا کے سامنے عیاں رہی۔اور آپ ہر نوعیت کے حالات سے گزرے۔جس کے نتیجہ میں آپ کی زندگی ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے کے لئے جامع سبق لئے ہوئے ہے۔آپ پر غربت اور تکالیف کے دور بھی آئے۔اور بادشاہت اور امارت سے بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا۔غرض ہر دور میں سے گزرتے ہوئے آپ نے اپنے طرز عمل سے انسان کے لئے ایسے سبق چھوڑے جو ہر طرح سے مکمل اور جامع ہیں بڑے بڑے فلسفیوں نے اخلاقیات کے مختلف معیار قائم کئے اور مختلف سبق دیئے۔لیکن کوئی بھی حقیقت سے اتنا قریب نہ ہو سکا جتنا کہ آنحضرت ﷺ کے قائم کردہ معیار اقرب الی الحقیقت ہیں۔مختلف اوقات میں مختلف نظام دنیا میں قائم کئے گئے تا کہ معاشرتی سیاسی اور سماجی توازن کے ساتھ ساتھ اخلاقی توازن کو بھی قائم رکھا جا سکے۔مگر اپنے مقصد میں نہ اشتراکیت کو وہ کامیابی عطا ہوئی اور نہ فلسفے کو وہ کامرانی نصیب ہوئی۔جو اسلام کے حصہ میں آئی۔اس عظیم کا مرانی کا ثبوت یہی ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے آنحضرت ﷺ دنیا کی بدترین قوم کو بہترین قوم بنانے میں کامیاب ہو گئے۔یہ