خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 720
720 پیراں غیب ضلع ملتان میں جلسہ 21 رمئی 1966ء استقبالیہ ایڈریس کے بعد حضرت سیدہ ام متین صاحبہ نے سیرۃ النبی ﷺ کے موضوع پر ایک جامع تقریر فرمائی۔آپ نے فرمایا کہ حضرت محمد مصطفی اللہ نہ صرف خیر البشر تھے بلکہ انبیاء کے سردار اور خاتم النبین بھی تھے۔آپ پر قرآن پاک جیسی بے مثل کتاب کا نزول ہوا اور اس کتاب کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (الحجر: 10) کے الفاظ کے ساتھ فرمایا جبکہ پہلی شریعتیں نہ تو ہر لحاظ سے کامل تھیں اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کا ذمہ لیا تھا۔لیکن قرآن پاک کو اللہ تعالیٰ نے مکمل ضابطہ حیات کی صورت میں نازل فرمایا جب تک مسلمان قرآن پاک کی تعلیم پر عمل پیرا رہے۔ہر قسم کی دینی و دنیاوی ترقیات ان کے قدم چومتی رہیں۔آج مسلمان قرآن پاک سے غفلت برت کر ہر طرح ذلیل و خوار ہو رہے ہیں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے عشق کا دعویٰ اُس وقت تک جھوٹا اور بے بنیاد ہے جب تک کہ ہم قرآن پاک کی تعلیمات پر عمل پیرا نہ ہوں۔لہذا قرآن پاک کو پڑھنا اور باترجمہ پڑھنے کے بعد اس کے مطالب کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا ہمیں ہر قسم کی کامیابی وکامرانی سے ہمکنار کر دے گا۔آپ نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی معنوی حفاظت کا وعدہ یوں فرمایا کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد آتا رہا جو اسلام کی تعلیم پر زور دے کر مسلمانوں کو ان کی کمزوریوں اور غفلتوں سے آگاہ کرتا رہا ہے۔چودھویں صدی کے سر پر اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ اور آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔جنہوں نے اسلام کے تن مردہ میں از سرنو روح پھونکی۔حضرت محمد مصطفی ﷺ کی غلامی آپ کے لئے باعث فخر تھی۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے کسی نئے مذہب کو پیش نہیں کیا بلکہ اسلام کی صحیح تصویر اس کفر والحاد کے زمانے میں پیش کی ہے۔دعا کے الفضل 3 / جون 1966 ء بعد جلسہ برخاست ہوا۔