خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 716 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 716

716 خطاب لجنہ اماءاللہ پشاور صوبہ سرحد حضرت سیدہ ام متین صاحبہ کی تقریر کا موضوع تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمدردی بنی نوع انسان کا ذکر کرتے ہوئے اس سلسلے میں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چند اشعار اور اقتباسات سنانے کے بعد فرمایا کہ بنی نوع انسان سے آنحضرت ﷺ کی ہمدردی اور شفقت کی نظیر دنیا کی کوئی تاریخ پیش نہیں کر سکتی۔خود خدا تعالیٰ نے آپ کے متعلق گواہی دی۔عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمُ بِالْمُؤْمِنِين رَءُوفٌ رَّحِيمٌ۔(التوبة : 128) اس آیت میں حریص اور عزیز کے الفاظ سے آپ کی مظہر صفت رحمان ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ آپ رحمتہ للعالمین ہیں۔بنی نوع انسان اور تمام حیوانات کے لئے آپ کا وجود سراپا رحمت ہے۔آپ کے اخلاق فاضلہ اس قدر اعلیٰ تھے کہ آپ کا وجود دنیا کے ہر شخص کے لئے مجسم رحمت بن گیا۔کیا امیر کیا غریب کیا مرد کیا عورت کیا بچہ کیا بڑا۔کیا آقا کیا غلام کیا انسان اور کیا جانور غرض تمام مخلوق کے لئے آپ سراپا رحمت اور سرا پا شفقت تھے۔خطاب کو جاری رکھتے ہوئے حضرت سیدہ موصوفہ نے واقعات کی روشنی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سلوک غلاموں کے ساتھ غرباء کے ساتھ قتیموں کے ساتھ ہمسایوں کے ساتھ۔رشتہ داروں کے ساتھ اولاد کے ساتھ طبقہ نسواں کے ساتھ ، حیوانوں کے ساتھ اور دشمنوں کے ساتھ تفصیل سے بیان فرمایا تقریر کے آخری حصہ میں آپ نے اس امر کو بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرما دیا ہے آپ کے اُسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوئے بغیر اب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کرسکتا۔چنانچہ اس زمانے کے مامور نے بھی یہی فرمایا ہے کہ میں جو کچھ پایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل پایا اور آپ ﷺ کے اسو ہ حسنہ پر عمل پیرا ہوکر پایا۔الفضل 14 مئی 1966ء