خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 704
704 احباب جماعت کا شکریہ اور درخواست دعا حضرت مصلح موعود خلیفہ امسیح الثانی کے وصال پر ہزاروں احباب جماعت نے خود آ کر مجھ سے تعزیت فرمائی اور ابھی تک آنے کا سلسلہ جاری ہے۔سینکڑوں تاریں اور خطوط اور ریزولیوشن وصول ہو چکے ہیں۔اور ہورہے ہیں۔احباب جماعت کے اس اظہار خلوص ، محبت اور ہمدردی پر سر بے اختیار خدا وند عز و جل کے آستانہ پر جھک جاتا ہے اور دل بے اختیار حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر درود بھیجتا ہے جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے احمد یہ جماعت کا بیج بویا جو آج ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر چکا ہے اور جن کے طفیل آج جماعت کو وہ اتحاد نصیب ہے کہ ہر احمدی ایک دوسرے کیلئے رشتہ داری کی محبت سے زیادہ محبت رکھتا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو آپ سے جو محبت تھی جو تعلق تھا اس کا اظہار ایک مرتبہ نہیں دو مرتبہ نہیں بلکہ آپ کی ساری زندگی میں۔آپ کے ہر فعل میں ہر قول اور ہر حرکت سے ہوتا رہا ہے۔انہوں نے جماعت کو ہمیشہ ہی اپنی بیویوں اور بچوں پر مقدم رکھا جیسا کہ مارچ 1945ء میں جبکہ ایک پیغام الفضل کے ذریعہ دیا تھا اس میں آپ نے لکھا تھا میں ہمیشہ آپ سے اپنی بیویوں اور بچوں سے زیادہ محبت کرتا رہا ہوں اور اسلام اور احمدیت کی خاطر اپنے ہر قریبی اور ہر عزیز کو قربان کرنے کیلئے ہمیشہ تیار رہا ہوں۔میں آپ سے اور آپ کی آنے والی نسلوں سے بھی یہی توقع رکھتا ہوں کہ آپ بھی ہمیشہ اسی طرح عمل کریں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔“ اسی محبت کے فیض سے آج میرے دل کی بھی یہی حالت ہے کہ خود دل غم سے پھٹ رہا ہوتا ہے۔آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں مگر جب کوئی احمدی خاتون میرے پاس آ کر رونے لگتی ہے تو مجھے اس کا غم اپنے غم سے بڑھ کر محسوس ہوتا ہے اور اس لمحہ میری آنکھیں خشک ہو جاتی ہیں اور میں اُسے تسلی دینے لگتی ہوں۔چونکہ ابھی نہ اتنی فرصت ہے اور نہ دل میں طاقت کہ ہر بہن اور بھائی کے خط یا تار کا الگ الگ جواب دے سکوں۔اس لئے الفضل کے ذریعہ سب احباب جماعت کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں اور ان کو یقین دلاتی ہوں کہ انشاء اللہ العزیز وہ ہمیشہ مجھے اپنی دعاؤں میں یا درکھیں گے اور ہمیشہ ہر دکھ درد میں وہ مجھے اپنا شریک پائیں گے۔اللہ تعالیٰ توفیق دے۔