خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 53
53 موجود ہیں۔جو آج سے چودہ سو سال قبل موجود تھے۔آنحضرت ﷺ کے فیوض و برکات کا آفتاب ہمیشہ چمکتا رہا اور ہمیشہ چمکتا رہے گا۔اللہ تعالیٰ نے ان فیوض اور برکات کے پانے کا نسخہ قرآن مجید میں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ( آل عمران : 32) یعنی ان کو کہہ دو کہ اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی محبت تمہیں حاصل ہو تو میری اطاعت کرو۔جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔گویا قیامت تک کے لئے اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کی شرط اطاعت رسول اللہ ﷺ لگادی۔خدا تعالیٰ کی محبت وہی حاصل کر سکتا ہے جو آنحضرت ﷺ کی کامل اطاعت کر کے اور آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ پر چلے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔اگر چہ مجھے افسوس ہے کہ بدقسمتی سے مسلمانوں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ خوارق اور اعجاز اب نہیں ہیں پیچھے ہی رہ گئے ہیں مگر یہ ان کی بدقسمتی اور محرومی ہے وہ خود چونکہ ان کمالات و برکات سے جو حقیقی اسلام ہے اور آنحضرت ﷺ کی سچی اور کامل اطاعت سے حاصل ہوتی ہیں محروم ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تاثیریں اور برکات پہلے ہوا کرتی تھیں اب نہیں۔۔۔مجھے بھیجا ہے تا کہ میں دکھاؤں کہ اسلام کے برکات اور خوارق ہر زمانہ میں تازہ بہ تازہ نظر آتے ہیں اور لاکھوں انسان گواہ ہیں کہ انہوں نے ان برکات کو مشاہدہ کیا ہے اور صدہا ایسے ہیں جنہوں نے خودان برکات اور فیوض سے حصہ پایا ہے اور یہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ایسا بین اور روشن ثبوت ہے کہ اس معیار پر آج کسی نبی کا متبع وہ علامات اور آثار نہیں دکھا سکتا جو میں دکھا سکتا ہوں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 526) نیز فرماتے ہیں۔ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے دیں دین محمد سانہ پایا ہم نے کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دکھلائے شمر باغ محمد سے ہی کھایا ہم نے مصطفى ترا پر بے حد ہو سلام اور رحمت اس سے نور لیا بار خدایا ہم نے کسی مذہب کے مانے والوں میں سے ایک نے بھی یہ دعوی نہ کیا کہ اپنے نبی کی تعلیم کی وجہ سے میں اب بھی معجزہ دکھا سکتا ہوں صرف اسلام ہی ایک زندہ مذہب ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی یہ فخر حاصل ہے کہ آپ ﷺ کی امت میں آپ ﷺ کی غلامی میں تیرہ سو سال کے بعد بھی ایک مردِ خدا نے