خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 50
50 کی شفقت اور قوت قدسیہ ہی تھی جس نے چند دنوں میں ایک شدید دشمن کو دوست کی شکل میں تبدیل کر دیا۔آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ وہ اعلیٰ درجہ کا جذب عطا فر مایا تھا کہ سخت ترین دشمن کو بھی بسا اوقات آپ کے آگے سر جھکا دینا پڑتا تھا۔آپ ﷺ کی مخالفت سب سے زیادہ ابو جہل نے کی تھی۔ایک شخص کا ابو جہل نے قرضہ دینا تھا وہ مکہ آیا تا کہ اپنا قرضہ وصول کرے۔ابوجہل نے قرض کی ادائیگی سے انکار کر دیا۔اس نے لوگوں سے اس بات کی شکایت کی تا کوئی اس کی مدد کر سکے۔بعض نوجوانوں نے از راہ شرارت اسے آنحضرت ﷺ کا پتہ بتادیا کہ ان کے پاس جاؤ۔ان کا مقصد یہ تھا کہ جب وہ شخص آپ ﷺ کی خدمت میں جائے گا تو آپ فوراً اس کی مدد کے لئے کھڑے ہو جائیں گے اور ابو جہل کے پاس جائیں گے۔تو ابو جہل آپ کو ذلیل کر کے نکال دیگا۔اور اس طرح عربوں میں آپ کی ذلت ہوگی۔وہ شخص آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچا اور اپنی غرض بیان کی۔آپ ﷺ کی تو زندگی کا مقصد ہی مظلوموں کا حق ان کو دلوانا تھا۔آپ فوراً اُٹھ کھڑے ہوئے اس شخص کو ساتھ لیا اور ابو جہل کے گھر پہنچے۔دروازہ پر دستک دی۔ابو جہل نے دروازہ کھولا اور باہر نکلا تو دیکھا کہ اس کا قرض خواہ اور محمد رسول اللہ ﷺ باہر کھڑے ہیں۔آپ ﷺ نے ابو جہل کو دیکھتے ہی فرمایا تم نے اس کا اتنا قرضہ دینا ہے ابھی ادا کرو۔۔آپ ﷺ کے الفاظ میں کیسی تاثیر تھی کہ اس وقت ابو جہل نے اس کا قرضہ ادا کر دیا۔جب آپ واپس تشریف لے گئے تو مکہ کے دوسرے رؤوسا نے ابو جہل سے کہا کہ تم ہمارے سامنے تو بڑی ڈینگیں مارتے تھے۔اب کیا ہو گیا۔ابو جہل نے جواب دیا کہ اگر تم میری جگہ ہوتے تو تم بھی یہی کرتے۔میں نے دیکھا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں اور بائیں مست اونٹ کھڑے ہیں جو میری گردن مروڑ کر مجھے ہلاک کرنا چاہتے تھے۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ واقعہ کیا تھا۔مگر حق و صداقت کا رُعب یقیناً اس پر ایسا چھایا کہ آپ ﷺ کے حکم کا وہ انکار نہ کر سکا۔اور ایک شدید ترین دشمن بھی آپ ﷺ کی قوت قدسیہ کے اثر سے باہر نہ رہ سکا۔جنگ اُحد کا ایک اور واقعہ بھی بیان کے قابل ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی صحبت نے صحابہ کے دلوں میں کتنا پختہ ایمان پیدا کر دیا تھا۔جنگ ختم ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ نے بعض صحابہ کوزخمیوں کی دیکھ بھال پر مقرر فرمایا۔ایک صحابی ایک زخمی انصاری کے پاس پہنچے جو جان تو ڑ رہے تھے۔صحابہ ان کے پاس پہنچے اور السلام علیکم کہا۔انہوں نے لرزتا ہوا ہا تھ مصافحہ کے لئے بڑھایا اور کہا میرے رشتہ داروں کو سلام کہنا اور یہ کہنا کہ میں مر رہا ہوں مگر اپنے پیچھے خدا تعالیٰ کی ایک مقدس امانت محمد رسول اللہ نے