خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 636
636 ہوئے لجنہ اماءاللہ کا مجلہ جو لجنہ اماءاللہ کے پچاس سال گذرنے کی تقریب پر اردو اور انگریزی میں شائع کیا گیا ہے زیادہ سے زیادہ خریدیں اور دوسروں کو پڑھنے کے لئے دیں تالجنہ اماءاللہ اور آپ کی خدمات کا تعارف ان کو ہو۔ان کی غلط فہمیاں دور ہوں اور ان کو معلوم ہو کہ لجنہ اماءاللہ کا قیام انسانیت کی خدمت کرنے کے لئے ہے۔جو نہیں پڑھنا چاہتیں انہیں پڑھائیں اور علم کے نور سے ان کے دل و دماغ کو منور کریں۔اسی سلسلہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تعلیم بالغاں پر زور دینے بچوں کو دینی تعلیم دینے کے لئے کہانیوں کے رنگ میں نصاب تیار کرانے اور ان کو پڑھانے کی ذمہ داری بھی سونپی ہے۔یہ ایک وسیع پروگرام ہے جس پر اگر آپ عمل شروع کر دیں تو آپ کے لئے ترقی کی نئی را ہیں کھلیں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔قرآن مجید کے بڑے حکم دو ہی ہیں۔ایک تو حید و محبت و اطاعت باری عزاسمہ دوسری ہمدردی اپنے (ازالہ اوہام صفحہ 550 روحانی خزائن جلد 3) بھائیوں اور بنی نوع کی۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شرائط بیعت میں شرط نہم یہی قرار دی ہے کہ عام خلق اللہ کی ہمدری میں محض اللہ مشغول رہے گا۔اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خدا داد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔“ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بنی نوع انسان سے ہمدردی کی تعلیم جماعت کو دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔شر سے پر ہیز کرو اور بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی بجالا ؤ۔اپنے دلوں کو بغضوں اور کینوں سے پاک کرو کہ اس عادت سے تم فرشتہ کی طرح ہو جائے گے۔“ پھر آپ فرماتے ہیں بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی میں میرا یہ مذہب ہے جب تک دشمن کے لئے دعانہ کی جاوے پورے طور پر سینہ صاف نہیں ہوتا۔اُدْعُونِی اَسْتَجِبْ لَكُمْ میں اللہ تعالیٰ نے کوئی قید لگائی کہ دشمن کے لئے دعا کرو تو قبول نہیں کروں گا بلکہ میرا تو یہ مذہب ہے کہ دشمن کے لئے دعا کرنا یہ بھی سنت نبوی ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی سے مسلمان ہوئے۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 68) پس اپنی محبت، ہمدردی اور خلقی کا دائرہ وسیع کریں ہر ایک کی خدمت کے لئے کمر بستہ رہیں جس رنگ میں بھی ممکن ہو۔ہمارے ملک میں ابھی تک جہالت عام ہے خصوصاً دیہاتی علاقوں میں احمدی خواتین کا