خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 637
637 فرض ہے۔عموماً اور لجنات اماءاللہ کی عہدیدار کا خصوصاً کہ ان کو قرآن مجید اور اردولکھنا پڑھنا سکھانے کے پروگرام بنا ئیں۔ان کو دین کے بنیادی اصول سکھائیں۔ہزاروں گناہ جہالت کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں یہ بہت بڑا کام ہے۔اگر اس سال ہر گاؤں اور ہر قصبہ اور ہر شہر کی لجنہ اس کا آغاز کر دے کہ جہالت کو دور کرنے اور قرآن پڑھانے کا کام منتظم طور پر شروع کر دیں تو یہ ان کا بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔صرف ضرورت ہے عزم کی اور استقلال سے کام کرنے کی۔اس کے بعد میں اس طرف توجہ دلاتی ہوں کہ جہاں علمی لحاظ سے خواتین جماعت احمد یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ترقی کر رہی ہیں، مالی قربانی کے لحاظ سے ان کا مقام بہت بلند ہے وہاں تربیت کے لحاظ سے بھی ہم میں بہت سی خامیاں ہیں اور بہت جدو جہد کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک روحانی انقلاب بر پا کرنے کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔اور اپنی بعثت کی غرض بیان فرماتے ہوئے آپ لکھتے ہیں۔خدا اس جماعت کو ایک ایسی قوم بنانا چاہتا ہے جس کے نمونہ سے لوگوں کو خدایا د آوے۔اور جو تقویٰ اور طہارت کے اول درجہ پر قائم ہوں اور جنہوں نے در حقیقت دین کو دنیا پر مقدم رکھ لیا ہو۔“ (تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ 206) اگر واقعی ہم میں سے ہر ایک ایسی ہے جو دین کو دنیا پر مقدم رکھتی ہے تو یقینا ہم اپنے عہد بیعت میں سچی ہیں اور پوری اترتی ہیں لیکن اگر ایسا نہیں اور مادی دنیا کی کشش ہمیں دین کے مقابلہ میں زیادہ ہے تو یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔پس تبدیلی پیدا کریں اپنے اندر تا آپ کی اولا د اور آپ کی نسلیں اسلام کی خاطر انتہائی قربانے دینے والی ہوں۔پس ہر ماں کا بھی فرض ہے اور عہدیداران لجنہ اماءاللہ اور نا صرات الاحمدیہ کے نگرانوں کا بھی کہ بچوں کی تربیت پر زور دیں۔“ یہی آپ کا اس دور میں سب سے بڑا کام ہے۔ان کو نیک خدا پرست ، خدا تعالیٰ اور رسول کریم علی سے محبت کرنے والے اور احکام نبی کے پابند۔دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نصائح پر چلنے والے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلہ کو بشاشت قلب سے قبول کرنے والے اور ہر حکم کی تعمیل کرنے والے، سادہ مزاج ، نرم دل مگر دین کے لئے دودھاری تلوار اور بیحد غیریت دین رکھنے والے بنا ئیں۔