خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 624
624 جنہوں نے لجنہ اماء اللہ کے ابتدائی زمانہ میں اپنی جان، مال، وقت اور جذبات کی قربانیاں دے کر اس تنظیم کو پروان چڑھایا۔اور اپنے اُسوہ سے دوسروں کو قربانیوں کی تحریک کی ان میں سر فہرست نام حضرت سیدہ نصرت جہاں کا ہے پھر حضرت سیدہ ام ناصر، حضرت سیدہ امتہ الحی، حضرت سیده ساره بیگم حضرت سیدہ ام طاہر ، حضرت سیدہ ام داؤد، اور کئی خواتین نے عورتوں کو منظم کرنے۔مالی جہاد پر آمادہ کرنے۔دینی تعلیم حاصل کرنے ، قرآن مجید کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے اور قومی کاموں کے لئے اپنے اوقات خرچ کرنے کے لئے جو سعی فرمائی لجنہ اماءاللہ کی ممبرات اسے کبھی فراموش نہیں کر سکتیں۔جماعت احمدیہ پر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام - انعام خلافت ہے۔جس کی برکتوں سے لجنہ اماءاللہ نے وافر حصہ پایا۔آج جماعت احمدیہ میں جو اتحاد اور تعاون نظر آتا ہے اور جس کی جھلک بھی کسی اور تنظیم میں نظر نہیں آتی یہ سب خلافت ہی کی برکت ہے۔جس کی وجہ سے سب احمدی ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔اور سب کا مقصد ایک ہی ہے کہ اپنی تمام قوتوں کو صرف کر کے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اس کے فضل کے طالب ہو کر غلبہ اسلام کی شاہراہ پر آگے ہی آگے بڑھتے جائیں۔گزشتہ پچاس سال میں ممبرات لجنہ اماءاللہ کی ہر قربانی خواہ وہ جان کی تھی یا مال کی وقت کی تھی یا اولاد کی سب کا مقصد اور مدعا ایک ہی تھا کہ ساری دنیا اپنے نجات دہندہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو جائے اور ساری دنیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لے آئے۔اللہ تعالیٰ کے اسی ارشاد پر کہ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيدَنَّكُمْ (سورة ابراهيم : 8) لجنات اماءاللہ پاکستان و بیرون کی طرف سے عاجزه حضور اید کم اللہ کی خدمت میں ایک لاکھ روپے کا چیک پیش کرتی ہے۔نیز ایک لاکھ روپے لجنہ اماءاللہ انگلستان کی طرف سے جو وہ دیں ادا کریں گی۔حضور سے درخواست ہے کہ حضور قبول فرمائیں اور اسی رقم کو اشاعت قرآن مجید یا کسی اور مد میں جہاں حضور کے نزدیک صرف کرنا زیادہ ثواب کا موجب ہو خرچ کرنے کا فیصلہ فرمائیں۔نیز دعا بھی کریں کہ اللہ تعالی آئندہ حضور اید کم اللہ کی قیادت میں پہلے سے بڑھ کر قربانیاں دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ہمارا رب ہم سے راضی ہو اور ہماری اگلی نسل ہم سے بھی بہتر ہو۔الفضل 26 نومبر 1972ء