خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 46 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 46

وہ فور أرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے گناہ کا اعتراف کر کے آپ سے شرعی سزا کی درخواست کرتا تا اس دنیا میں سزا پالے اور آخرت کی سزا سے محفوظ رہے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری فرماتے تھے کہ مجھے یہ پسند ہے کہ میری ناک بد بو سے بھر جائے لیکن یہ پسند نہیں کہ اس میں کسی اجنبی عورت کی خوشبو آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اس شعر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔كَانَ الْحِجَازَ مَغَازِلَ الْغِزُلَانِ فَجَعَلْتَهُمْ فَانِينَ فِي الرَّحْمَانِ ترجمہ:۔اہل حجاز جو خو بصورت عشق بازی میں محو تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فانی فی اللہ بنادیا۔جس طرح اعلیٰ درجہ کا طبیب وہی سمجھا جائے گا جو بظاہر نا قابل علاج بیماریوں کا علاج کر کے مریض کو اچھا کردے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہزاروں روحانی مریضوں کا علاج کیا جن روحانی امراض میں اہل عرب گرفتار تھے ان کا تصور کر کے پھر ان کے اخلاق و عادات میں جو عظیم الشان تبدیلی ہوئی اس کو دیکھنے میں اسی قدر آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔آپ نے تَخَلَّقُوا بِأَخْلاقِ الله کا کامل نمونہ بن کر دنیا کو دکھایا جس کے نتیجہ میں آپ پر ایمان لانے والے میں وہ اعلیٰ درجہ کے اخلاق پیدا ہوئے جنہوں نے انہیں خدا سے جاملا یا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔آپ ﷺ کیا بلحاظ اپنے اخلاق فاضلہ کے اور کیا بلحاظ اپنی قوت قدسی اور عقد ہمت کے اور کیا بلحاظ اپنی تعلیم کی خوبی اور تکمیل کے اور کیا بلحاظ اپنے کامل نمونہ اور دعاؤں کی قبولیت کے غرض ہر طرح اور ہر پہلو میں چمکتے ہوئے شواہد اور آیات اپنے ساتھ رکھتے ہیں کہ جن کو دیکھ کر ایک غیبی سے نبی انسان بھی بشرطیکہ اس کے دل میں بیجا ضد اور عداوت نہ ہو صاف طور پر مان لیتا ہے کہ آپ ﷺ تَخَلَّفُوا بِاخْلاقِ اللہ کا کامل نمونہ اور کامل انسان ہیں۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ: 121 نیا ایڈیشن) قربانی اور ایثار کا بینظیر جذبہ: آپ ﷺ کی شفقت علی خلق اللہ کے نتیجہ میں صحابہ میں ایک دوسرے کیلئے قربانی اور ایثار کا جذبہ