خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 620
620 آواز سننے کی بجائے اپنے کان بند کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔لَا غُلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي (المجادلة : 22) میں اور میرے رسل غالب آکر رہتے ہیں۔پھر خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا۔" میں تیرے دلی محبوں کا گروہ بڑھاؤں گا۔“ يَنصُرُكَ اللهُ مِنْ عِنْدِهِ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِيَ إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ۔(تذكره ص39) خدا کا وعدہ پورا ہوا اور آج اس صداقت کی آواز کی گونج پاکستان میں بھی گونج رہی ہے۔ہندوستان میں بھی۔یورپ کے شہروں سے بھی اس آواز کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔براعظم افریقہ کے صحراؤں سے بھی دور دراز براعظم ، امریکہ کے لوگ بھی اس صداقت کے علمبر دار ہیں اور جزائر میں رہنے والوں کے دل بھی اسی عشق و محبت سے پر ہیں جن سے ہمارے۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے غلام جہاں پہنچے ان کے ذریعہ وہاں جماعتیں پیدا ہوئیں نہ صرف جماعتیں بلکہ بجنات اور ناصرات تک کا قیام ہو چکا ہے ایسی مخلص بہنیں پیدا ہو چکی ہیں جو ہزاروں پاؤنڈ چندہ دینے والی ہیں۔کئی مساجد اپنے چندوں سے تعمیر کروا چکی ہیں اور سلسلہ کے ہر کام میں بشاشت قلب سے آگے آتی ہیں۔میری بہنو! یہ انعامات بھی اور آئندہ ملنے والے انعامات بھی اللہ تعالیٰ نے خلافت سے وابستہ رکھے ہیں۔یہ نکتہ میری بہنوں کو یا د رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو خلافت کا عظیم ترین انعام عطا فرمایا ہے۔لیکن اس انعام کو ایمان اور اعمال صالحہ کے ساتھ مشروط بھی فرما دیا ہے۔اسلامی تعلیم کا مرکزی محور اَطِيْعُو اللَّهَ وَاَطِيْعُو الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمُ (النساء: 60) کی تعلیم ہے۔اللہ تعالیٰ کے احکامات اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ خلیفہ وقت کی کامل اطاعت کے بغیر ہماری روحانی اور جسمانی ترقی ناممکن ہے۔پس خود بھی اس نعمت عظمیٰ کی قدر کریں اور اس نعمت کو ہمیشہ اپنے میں قائم رکھنے کے لئے دعائیں کریں اور اس کے مطابق اعمال صالحہ کرتی رہیں۔وہ اعمال صالحہ کیا ہیں؟ حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالی کی یہی زندگی صحت آپ کے مقاصد میں کامیابی کے لئے دعائیں کرتے رہنا اور سب سے زیادہ دعا اسی مقصد کے لئے کرنا کیونکہ سب دعا ئیں اس دعا میں آجاتی ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث