خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 618
618 يُحْيِ الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَةَ (تذكره صفحه 55) آپ از سرنو دین اسلام کے باغ کی آبیاری کریں اور مسلمانوں کو پھر قرآن کریم پر عمل کروائیں اور ان کو بتائیں کہ اسلام زندہ مذہب ہے اگر وقتی طور پر اس باغ پر خزاں آئی تو پھر بہار آئے گی یہ خدا کی تقدیر ہے اور اس کی تقدیر بدلا نہیں کرتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ پھر مُردہ روحوں میں روح پھونکی گئی اور ایک بار پھر دنیا نے وہی نظارہ دیکھ لیا جو چودہ سو سال قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا کو نظر آیا تھا وہی روحانی انقلاب پھر بر پا ہونا ممکن ہو گیا۔وہ جو سمجھتے تھے اسلام پر زوال آچکا ہے اور چند دن کی اس کی زندگی ہے۔انہوں نے دیکھا کہ اس باغ پر پھر بہار آئی اور نئے شگوفے کھلنے لگے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف فرشتے لوگوں کو کھینچ کھینچ کر لانے لگے اور آپ کی قوت قدسیہ اور پاک تربیت سے اسلام کے فدائی پیدا ہونے لگے جن میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی۔جو ان بھی تھے اور بچے بھی جو اپنی جان مال ، وقت، اولا د اور عزت کو ہر وقت ہرلمحہ اسلام کی خاطر قربان کرنے کے لئے تیار رہتے تھے انہوں نے جانیں دیں۔سنگسار کئے گئے وطن چھوڑے۔عیش و عشرت پر لات ماری اور حمل چھوڑ کر قادیان معمولی گھروں میں آبسے اور مسیح موعود کے ہور ہے۔یہ وہ پہلی نسل تھی جس نے چودہ سو سال کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی معیت میں آکر اسلام کا جھنڈا تھاما اور اس کو بلند رکھنے کے لئے ساری دنیا سے مقابلہ پر تیار ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحابیات کی قربانیاں قرونِ اولیٰ کی خواتین کی قربانیوں سے کم نہ تھیں۔قربانیوں میں سر فہرست حضرت سیدہ نصرت جہاں کا نام ہے جنہوں نے احمدیت کی ابتدائی مشکلات کے زمانہ میں قدم قدم پر حضرت مسیح موعود ملیہ السلام کے ساتھ قربانیاں دیں۔تکالیف اُٹھائیں اور بشاشت قلب کے ساتھ اپنا سب کچھ پیش کر دیا تمنا تھی تو صرف یہی کہ خدا کے مسیح کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں پوری ہوں۔نبی تو ایک بیج بونے آتا ہے جب اس کا کام ختم ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو جاتا ہے۔اپنے وعدہ اور سنت کے مطابق جماعت احمدیہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے خلافت کا انعام عطا فرمایا خلافت کی برکات میں سے سب سے بڑی برکت جماعت کا اتحاد تنظیم اور آپس کا پُر خلوص پیار و محبت ہوتا ہے۔سب مومنین ایک لڑی میں پرو دیئے جاتے ہیں۔قرآن مجید میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ خالف بين قلو بکم ( ال عمران : 104) تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے محبت پیدا کر دی ایک احمدی کا دکھ سارے احمدیوں کا دکھ اور ایک احمدی کی تکلیف سارے احمدیوں کی تکلیف ہوتی ہے۔