خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 614 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 614

614 سالانہ اجتماع 1972 ء میں ناصرات الاحمدیہ سے خطاب اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود ناصرات الاحمدیہ! السلام عليكم ورحمة الله وبركاته قوم وہی زندہ رہتی ہے جس کی قربانیاں مسلسل ہوں جس کی اگلی نسل پہلی نسل کی جگہ لینے کے لئے تیار رہے۔اس غرض سے حضرت مصلح موعود کے ارشاد پر ناصرا الاحمدیہ کا قیام کیا گیا۔تا احمدی بچیوں کی ان کے بچپن سے ہی دینی ماحول میں تربیت ہو۔ان کے دلوں میں مذہب سے محبت ہو۔اپنی زندگی کے حقیقی مقصد کا شعور پیدا ہو۔اللہ تعالیٰ سے محبت ہو۔احکام قرآنی پر عمل کرنے کا شوق ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ذات سے محبت ہو۔آپ کے لئے غیرت کا جذبہ ہو۔آپ کے ارشادات پر عمل کرنے کا شوق ہو۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے مقصد کو سمجھنے والی ہوں۔آپ کے اور آپ کے خلفاء کی کامل فرمانبردار ہوں۔دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا جذبہ بچپن سے پیدا ہو۔دنیاوی نمود اور ظاہری چمک کے پیچھے بھاگنے والی نہ ہوں۔بلکہ سادگی اختیار کر کے اپنے جیب خرچ میں سے پیسہ پیسہ جمع کر کے اشاعت اسلام کی خاطر دینے والی ہوں۔یہ مقصد ہے ناصرات الاحمدیہ کے قیام کا اور یہی اُمید رکھتے ہیں ہم اپنی ہر احمدی بچی اور ہر ناصرات الاحمدیہ سے۔میری عزیز بچیو! قوم کی امیدیں آپ سے وابستہ ہیں اس وقت ہمارے عزیز ملک میں ملک دشمن ایک عنصر ہے جو ملک کی بنیادیں کھوکھلی کر رہا ہے اس کی کیا وجہ ہے۔ان کی ماؤں نے انکی بچپن میں تربیت نہ کی۔وطن اور قوم کی محبت ان کے دلوں میں پیدا نہ کی۔آپ کا نام ناصرات الاحد یہ ہے۔احمدیت کے تمام مقاصد اور نصب العین میں جان و دل سے مدد کرنے والیاں۔اس وقت آپ گلشن احمد کی نھی ننھی کلیاں ہیں۔کلی سوکھ بھی سکتی ہے۔ٹوٹ کر گر بھی سکتی ہے کلی خوشبو اس وقت دیتی ہے جب وہ کھل کر پھول بن جائے۔میری عزیز بچیو! ہمارا بھی فرض ہے کہ آپ کی اس رنگ میں تربیت کریں کہ بچپن سے ہی آپ صحیح معنوں میں ناصرات الاحمدیہ بن سکیں اور جب پندرہ سال کے بعد آپ لجنہ اماءاللہ کی ممبر بنیں تو صرف نام