خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 45 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 45

کے بعد پھر کبھی کسی نے شراب کو منہ نہ لگایا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو ایک گائے کے ذبح کرنے کا حکم دیا تھا۔لیکن جس جس طرح بنی اسرائیل حیلہ جوئی سے کام لیتے رہے اور قربانی کو ٹالتے رہے وہ تاریخ کا ایک کھلا ورق ہے اور اس کی تفصیل قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے۔اسی طرح جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو ارض مقدسہ میں داخل ہونے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف جواب دے دیا کہ فَاذْهَبُ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُنَا قَاعِدُونَ ﴿المائده : 25 اے موسیٰ آپ اور آپ کا رب جا کر دشمن سے لڑتے پھریں ہم تو یہیں بیٹھیں گے۔حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کا کیا حال تھا وہ حواری جو بڑی محنت سے طیار کئے گئے تھے جن کو رات اور دن آپ کی صحبت میں رہنے کا موقع ملا وہ بھی وفادار ثابت نہ ہوئے اور خود حضرت مسیح علیہ السلام کو ان کے ایمان پر شک رہا۔یہاں تک کہ آخری وقت میں وہ حواری ان کو چھوڑ کر چلے گئے۔ایک نے تو گرفتار کروادیا اور دوسرے نے سامنے کھڑے ہو کر تین مرتبہ لعنت بھیجی اس سے بڑھ کر اور نا کامی کیا ہوسکتی ہے۔لیکن ہزاروں ہزار درود و سلام اس رحمت للعالمین پر۔۔۔جنہوں نے اپنی قوت قدسیہ سے ہزاروں لاکھوں نفوس کا تزکیہ کیا اور ان سے ایسی محبت کی اور ان پر ایسی شفقت فرمائی کہ مسلمانوں کا ہر مرد عورت اور بچہ آپ کی جنبش لب پر اپنی گردنیں کٹوادینا فخر سمجھتا تھا ان کی زندگی کا مقصد محض اور محض اطاعت الہی اور اطاعت رسول ﷺ باقی رہ گیا۔انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح یہ نہیں کہہ دیا کہ جاؤ تم اور تمہارا رب لڑو ہم یہاں سے نہیں جائیں گے بلکہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہم آپ ﷺ کے دائیں بھی لڑیں گے۔ہم آپ کے بائیں بھی لڑیں گے۔ہم آپ کے سامنے بھی لڑیں گے اور ہم آپ کے پیچھے بھی لڑیں گے اور اگر آپ اشارہ بھی فرما دیں تو ہم اپنے گھوڑے سامنے سمندر میں ڈال دیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ آئے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ بدکاری عرب میں اس قدر عام تھی کہ اس بُرائی کا قطعاً اہل عرب میں کوئی احساس نہ پایا جاتا تھا بلکہ اپنے بُرے افعال کو بطور کارناموں کے فخریہ مجالس میں سناتے تھے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تربیت سے ان کی ایسی کایا پلٹ دی کہ ان میں عورت کے متعلق احترام پیدا ہو گیا۔بدکاری سے قطعاً مجتنب ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی خشیت اس درجہ کی پیدا ہوگئی کہ اگر کسی شخص سے کسی ایسے فعل کا ارتکاب ہو بھی جاتا تو