خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 607 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 607

607 چاہئیں کیونکہ قرآن مجید کی تعلیم کو رائج کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے تھے اور قرآن کی تعلیم کو دنیا میں فروغ دینے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہر خلیفہ نے اپنی زندگی گزاری اور قرآن ہی کی تعلیم دنیا میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز پھیلا رہے ہیں۔دراصل تو ہمارا ہر کام ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔سب سے اہم کام، سب سے بڑا کام ، سب سے بڑی ذمہ داری ہماری قرآن مجید سیکھنا ہے اور صرف طوطے کی طرح پڑھ لینا نہیں۔جب میں قرآن مجید سیکھنا کہتی ہوں تو اس سے مراد یہی ہے کہ قرآن مجید سیکھنا اور اس پر عمل کرنا۔اگر یہ کام ہماری جماعت کی خواتین سرانجام دے دیں، ہماری ہر خاتون اور ہر بچی کو قرآن آتا ہو، اس پر عمل کرے، اس کے اخلاق ، اس کے لباس، اس کی چال ڈھال، اس کی گفتار، اس کے کردار، اس کا دشمنوں کے ساتھ سلوک، اس کا دوستوں سے سلوک، اس کے مجلسوں کے انداز۔ہر چیز سے یہ جھلک رہا ہو کہ یہ معاشرہ قرآنی معاشرہ ہے۔یہ وہ چودہ سو سال قبل کا معاشرہ ہے جس کے واقعات بیان کئے جاتے تھے اور آج وہ معاشرہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے اور آپ کے خلفاء کے ذریعہ قائم ہو چکا ہے۔یہ ہے حقیقی مقصد ہمارے اجتماعوں کا۔یہ ہے حقیقی مقصد ہماری لجنہ اماءاللہ کا۔یہ ہے حقیقی مقصد ہر شہر ہر قصبہ ہر گاؤں کی لجنہ اماءاللہ کا۔کہ ان کے اندر قرآن سے محبت پیدا کریں۔ان کے اندر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت رسول کریم علے اور خدا تعالیٰ سے محبت پیدا کریں۔یہ محبت اور غرض تبھی حاصل کی جاسکتی ہے جب آپ حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ہر حکم کی پورے طور پر اطاعت کریں۔کتنی تقریریں انہوں نے آپ میں کی ہیں کتنے درس دیئے ہیں۔کتنے خطبے دیئے ہیں ہر ایک اسی چیز کے گرد گھوم رہا ہے کہ آپ کے زمانہ خلافت میں ہر مرد ، عورت، بچہ قرآن پڑھے۔قرآن پڑھائے۔قرآن پر عمل کرے۔قرآن کی تعلیم کو دنیا میں پھیلائے۔روشنی وہی پھیلتی ہے جس سے نور کی کر نیں نکل رہی ہوں۔دنیا میں ایک ٹمٹماتا ہوا دیا کیا روشنی پھیلائے گا۔آپ میں سے ہر بہن ، ہر بچی کے ہاتھ میں شمع قرآن ہونی چاہئے کہ جس کی روشنی دنیا کے کونے کونے میں پھیلے یہ ہے وہ عظیم الشان مقصد جس کے لئے تنظیم لجنہ اماءاللہ حضرت مصلح موعود نے قائم کی۔اگر آپ یہ مقصد اپنے سامنے نہیں رکھتیں تو آپ خواہ کتنے چندے دیں، کتنے دوسرے کام کریں آپ کے کاموں کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔میں پہلے بھی توجہ دلا چکی ہوں اب پھر میں اپنی بہنوں کو توجہ دلاؤں گی کہ اگلے سال کے پروگراموں کو بناتے ہوئے سب سے اول قرآن کریم کی تعلیم کو رکھیں۔خواہ اس کے لئے خرچ کرنا پڑے۔خواہ اس کے