خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 600 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 600

600 بڑے خوش ہیں ہماری بچیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔اور دنیا کی دوڑ میں حصہ لے رہی ہیں۔یہ آپ کا مقصد نہیں جب تک آپ کی ہر بچی دین کی تعلیم سے آراستہ نہ ہو جائے جب تک آپ کی ہر بچی نماز کی پابند نہ ہو۔جب آپ کی ہر بچی کو مذہب سے وہ دلچسپی نہ ہو جو خود آپ کو ہے آپ کو چین سے نہیں بیٹھنا چاہئے۔آج وہ کھیلنے کودنے اور دوڑنے والی بچی ہے کل اس نے انگلی نسل کی ماں بننا ہے۔خود جس کو دین نہیں آتا ہوگا جس کو خود قرآن نہیں آتا ہوگا جوخود نماز کی پابند نہیں ہوگی جس کے دل میں خود دین کے لئے محبت اور تڑپ نہیں ہوگی۔جس کے دل میں جماعت کی ترقی کے لئے خواہش نہیں ہوگی وہ کس طرح اپنے بچوں کو اس بات کی تعلیم دے گی کہ اُٹھو اور دین کی مدد کرو۔کئی دفعہ میں نے پہلے بھی توجہ دلائی ہے کہ ہماری ہر خاتون کو ہماری ہر بچی کم از کم ناصرات معیار اول کی بچی کو ابتدائی طبی امداد کے اصولوں سے واقف ہونا چاہئے۔یہاں اجتماع سے واپس جاتے ہی ہماری تمام لجنات ایسے پروگرام بنائیں جس کے ذریعہ مستورات کو ابتدائی طبی امداد کے ضروری اصولوں سے واقف کروایا جائے۔یہ ضروری نہیں کہ اس کا کوئی امتحان پاس کیا جائے۔امتحان اس کے ہوتے ہیں وہ بھی پاس کرنا مشکل نہیں لیکن اگر وہ نہ بھی ہوں تب بھی ہر عورت کو ابتدائی طبی امداد سیکھنی چاہئے تا کہ ہر موقعہ پر جب بھی کوئی ضرورت پیش آئے ہماری احمدی خواتین اپنی خدمات پیش کر سکیں۔اسی طرح سول ڈیفنس کے اصول ہیں۔اس کی تربیت ہر عورت کو ہونی چاہئے۔یہ چیزیں دیکھنے میں نہایت معمولی لگتی ہیں لیکن نہایت ضروری ہیں۔یہ ضروری ہیں اپنے گھر کی حفاظت کے لئے اور اپنے ملک کی حفاظت کے لئے ہماری بہنوں کو کم از کم شہری بہنوں کو ان کی اچھی تربیت ہونی چاہئے۔یہ نہیں کہ دس یا پندرہ یا ہیں کو آپ سکھا دیں پہلے دس پندرہ یا ہمیں سیکھیں پھر اپنے حلقے میں سکھا ئیں اور پھر ان کی رپورٹ بھجوائیں کہ ہم نے اتنوں کو تعلیم دی ہے۔گزشتہ سال حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان الفاظ میں آپ کو توجہ دلائی تھی کہ اس سال کے لئے یہ پروگرام مقرر کرتا ہوں کہ ہماری بچیاں اور بچے یا درکھنے کی باتیں حفظ کریں حضور نے فرمایا تھا کہ یہ عمر ایسی ہوتی ہے کہ جس میں بچہ حفظ زیادہ کر سکتا ہے۔سمجھنے کی ہمت کم ہوتی ہے۔اس لئے ان کے ذہنوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے جس طرح حضور نے پچھلے سے پچھلے سال سورۃ البقرہ کی آیات یاد کرنے کا ارشاد فرمایا تھا اور اس پر ہماری لجنات نے بڑا اچھا عمل کر کے دکھایا اس سال اس کتاب کے یاد کرانے پر زور دیا جائے۔