خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 596 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 596

596 پہنچی ہوں کہ پچھلے دو سال سے بے شک ہمارے چندے زیادہ ہورہے ہیں اور تعلیم بھی بڑھ رہی ہے لیکن ہماری عورتوں کے کاموں پر کچھ جمود طاری ہیں ایک زندہ قوم کی خواتین میں ایک زندہ رہنے والی جماعت میں ایک فعال تنظیم میں یہ جمود طاری نہیں ہونا چاہئے کیونکہ جہاں جمود طاری ہوا وہاں بظا ہر قوم پر موت کے آثار طاری ہو گئے۔مومن کا تو ہر قدم آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے کہیں ٹھہرتا نہیں۔یہ صحیح ہے کہ اگر ہم گذشتہ حالات کا جائزہ لیں تو ہماری وہ بجنہ اماءاللہ جو چودہ ممبرات سے شروع ہوئی تھی آج دنیا کے ہر کونے میں اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں لیکن ابھی تک ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ جو ہمارا نصب العین اور حقیقی مقصد تھا کہ ہماری ہر عورت نمونہ ہو اسلام کی تعلیم کا۔ہماری ہر عورت کے اندر وہ محبت اور عشق کی آگ لگی ہوئی ہو کہ اس کی حقیقی زندگی کا مقصد جورب حقیقی سے تعلق پاتا ہے وہ اس نے حاصل کرنا ہے۔جب مجھے اپنی بہنوں سے، ان کی نمائندگان سے ، ان کی عہدہ داران سے ملنے کا موقع ملا تو ہر لجنہ یہ شکایت کر رہی ہوتی ہے کہ کوئی کام کرنے کے لئے آگے نہیں آتا۔آپ کبھی دورہ کریں یا پھر کسی لجنہ کی عہدہ دار کو بھجوائیں جو ہم میں بیداری پیدا کرے۔یہ خیال ہی غلط ہے کسی انسان پر کیوں انحصار کیا جائے کہ وہ جائے تو بیداری پیدا ہو۔آپ کو خود کوشش کرنی چاہئے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر جگہ ہماری جماعتیں قائم ہیں۔ہر جگہ لجنہ قائم ہے اور تعلیم کی بھی کمی نہیں ہے خصوصاً ہماری نئی پود میں۔صرف یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ تم کس جماعت کیساتھ وابستہ ہو تم کس نام کے ساتھ وابستہ ہو۔تمہارا کیا کام ہے۔تمہارا کام دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ہے مگر اس نصب العین کو سامنے رکھ کر ہماری ہر عہدہ دار ہماری ہر نمائندہ۔ہماری ناصرات کی ہر بچی اور لجنہ کی ہر ممبر اپنا یہ نصب العین بنالے ہر شعبہ میں خواہ وہ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو ہمارا کام دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ہے تو ہم بہت جلد اپنے نصب العین کو حاصل کرنے والے ہو سکتے ہیں۔لیکن ایک لجنہ میں صرف ایک عہدہ دار یا دو عہدہ داروں کے اندر زندگی کا پایا جانا اور باقی تمام نمبرات کا ان کے ساتھ تعاون نہ کرنا ایک زندہ قوم کی خواتین کے شایان شان نہیں۔ہم یہ نہیں پسند کرتے کہ صرف صدر اور سیکریٹری یا سیکرٹری مال یا سیکرٹری تعلیم اور ان کی جو عہدہ داران ہیں ان کے اندر زندگی ہو اور وہ گھر گھر پھر کر چندہ جمع کریں اور گھر گھر پھر کر بہنوں سے التجا کریں کہ آؤ ہم سے پڑھو اور دین کا علم سیکھو۔بلکہ ان کے اپنے دلوں میں یہ آگ لگی ہوئی ہونی چاہئے کہ