خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 592 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 592

592 فرمایا:۔اختتامی خطاب سالانہ اجتماع 1970ء ہر انسان کی پیدائش کی غرض اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنا ہے لیکن اس محبت کو حاصل کرنے کے لئے جو پہلا معیار اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ ہر وہ انسان جو محبت الہی کا خواہش مند ہے وہ پہلے اس درجہ کو حاصل کرے کہ اس کے نفس کی اپنی کوئی خواہش باقی نہ رہے۔جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے خلافت کی صورت میں ایک اتنا بڑا انعام عطا فرمایا ہے کہ جس کی قدر و قیمت کو الفاظ میں بیان بھی نہیں کیا جاسکتا۔آج ساری روئے زمین پر صرف اور صرف ایک ہی جماعت ہے جس کا ایک امام ہے جس کے دل میں ساری جماعت کا درد ہے۔جس کا سر اپنی جماعت کے مرد، عورتوں اور بچوں کی خاطر اپنے رب کے آگے جھکا رہتا ہے۔اس نعمت کی قدر کرنا اور اس نعمت کی اہمیت اور محبت کا اپنی اولاد کے دلوں میں پیدا کرنا ہر احمدی خاتون کا فرض اولین ہے۔خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ کے رسول ﷺ کی راہ میں قربانی دیتے ہوئے اگر مال ، اولاد، رشتہ دار زیادہ عزیز لگیں تو یہ اطاعت سے نکلنا ہی ہوا کیونکہ بیعت کرتے وقت عہد تو یہ باندھا تھا کہ ”ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گی لیکن جب امتحان کا وقت آیا تو دنیا بہت حسین بہت پرکشش لگنے لگ جاتی ہے۔عہد تو یہ باندھا کہ ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتے رہیں گے لیکن ہوتا کیا ہے کہ کسی کا حق مارلیا۔کسی پر ظلم کیا، اپنے محلہ میں ہر وقت لڑائی فساد کرتے رہے اور امن اور سلامتی کے ماحول میں بدمزگی پیدا کرتے رہے۔عہد تو یہ کیا تھا کہ اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دیں گے۔نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے لیکن ہوتا یہ ہے کہ ہماری زبانوں سے بھی دُکھ پہنچتے ہیں اور ہمارے ہاتھوں سے بھی۔عہد تو یہ باندھا تھا کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز رہیں گے۔قال اللہ اور قال الرسول کو اپنی ہر ایک راہ میں دستور العمل قرار دیں گے لیکن ہوتا یہ ہے کہ خاوند بیوی کا پردہ چھڑانا چاہے تو بیوی خاوند کی خوشنودی کی خاطر قرآن کا صریح حکم بھول جاتی ہے۔آنحضرت ﷺ کا ارشاد بھول جاتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیصلے یاد نہیں رہتے۔کیا یہی عہد بیعت ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہ ایسا اعلیٰ درجہ کا عقد اخوت ہو کہ اس کی نظیر