خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 42
اخراج اور قید کی تدبیریں کرو مگر یا درکھو۔سَيْهُزَمُ الْجَمْعُ ويُوَلُّونَ الدُّبُرَ ( القمر: 46) آخری فتح میری ہے تمہارے سارے منصوبے خاک میں مل جائیں گے۔تمہاری ساری جماعتیں منتشر اور پراگندہ ہو جاویں گی۔۔۔جیسے وہ عظیم الشان دعویٰ اِنِّی رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف: 159) کسی نے نہیں کیا اور جیسے فَكِيدُونِی جَمِيعًا (ھود:56) کہنے کی کسی کو ہمت نہ ہوئی یہ بھی کسی کے منہ سے نہ نکلا۔سَيُهْزَمُ الجَمْعُ وَيُوَلَّوْنَ الدُّبُر (القمر : 46) یہ الفاظ اسی کے منہ سے نکلے جو خدا تعالیٰ کے سایہ کے نیچے الوہیت کی چادر میں لپٹا ہوا تھا۔ملفوظات جلد اول صفحہ 344-345 نیا ایڈیشن ) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ عربوں کی حالت میں عظیم انقلاب: ہم جب عرب کی ابتدائی حالت پر نظر ڈالتے ہیں تو عرب کے لوگ تحت الثر کئی میں پڑے نظر آتے ہیں۔بت پرستی میں منہمک لڑائی جھگڑے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر۔لڑائیاں شروع ہوتیں تو قبیلے اور افراد سوسوسال تک ایک دوسرے کے خونی دشمن چلے جاتے کسی برائی کے کام سے عار نہ تھا۔چوری قتل ڈاکہ زنی بالکل معمولی باتیں سمجھی جاتی تھیں کوئی اخلاق نہ تھے۔نہ عورت کا احترام، برائیوں پر دلیر غرضیکہ سر سے پاؤں تک نجاست میں غرق تھے۔اسی ماحول میں آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے اور آپ کی قوت قدسیہ نے چند سال میں عرب کی ایسی کا یا پلٹ دی کہ بتوں کے پوجنے والے ایک خدا کے آگے سر جھکانے لگ گئے۔توحید پر اس قدر مضبوطی سے قائم ہوئے کہ ہر وقت یہی خیال غالب رہتا تھا کہ کوئی ایسا فعل بھی سرزد نہ ہو جائے جس میں مخفی در مخفی شرک کی بو بھی آتی ہو۔وہی لوگ جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے ایک دوسرے کے ہمدرد۔یہی خواہ اور غمخوار بن گئے۔ایثار، قربانی، اطاعت اور فرمانبرداری کا ایسا جذبہ ان کے اندر پیدا ہوا کہ روئے زمین پر اس کی مثال نہیں ملتی آنحضرت ﷺ نے اپنے صحابہ کی ایسی اعلیٰ تربیت فرمائی اور آپ ﷺ کے صحابہ نے بھی ایسا اعلیٰ درجہ کی جاں نثاری، محبت، اخلاص، اطاعت، وفا اور استقامت کا نمونہ دکھایا کہ اس کی مثال بھی دنیا کی کوئی تاریخ پیش نہیں کر سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس شعر میں اس زمانہ کی حالت کا کیا خوب نقشہ کھینچا ہے۔صَادَفْتَهُمْ قَوْمًا كَرَوْثٍ ذِلَّةٌ فَجَعَلْتَهُمْ كَسَبِيكَةِ العِقْيانِ