خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 577
577 پس میری بہنو! اور بچیو! آپ کا سب سے پہلا کام قرآن مجید کا ترجمہ سیکھنا ہے جب تک آپ قرآن مجید کاترجمہ نہیں سیکھتیں آپ اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھال بھی نہیں سکیں گی۔دوسرا کام آپ کا اپنی زندگیوں کو قرآن مجید کی تعلیم اور آنحضرت ﷺ کے اسوہ کے مطابق گزارنا ہے۔ہماری ترقی یورپ اور امریکہ کی نقالی میں نہیں ہے۔ہماری ترقی اور غلبہ احمدیت چودہ سو سال پیچھے جا کر اس معاشرہ کی نقل میں ہے جس کی نبی کریم ﷺ کے ذریعہ دنیا میں تشکیل ہوئی تھی۔ایک طرف ہمارا ایمان کہ نبی کریم ہے خاتم النبین ہیں۔ایک طرف ہمارا ایمان کہ قرآن کامل شریعت ہے۔دوسری طرف ہمارا عمل قرآن کریم کی تعلیم۔آنحضرت ﷺ کے ارشاد۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کی نصائح کے خلاف ہو تو کیا دوغلی زندگی اور منافقانہ چال نہیں ؟ سچا مومن تو اپنا سب کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیتا ہے۔جس وقت بیعت کرتا ہے اس کی مرضی اپنی مرضی نہیں رہتی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی بیعت لینی شروع کی تو یہی شرط رکھی کہ دنیا پر دین کو مقدم رکھوں گا۔اب جو بہنیں پردہ نہیں کرتیں جو بہنیں یورپ اور امریکہ کی بظاہر جگمگاتی ہوئی تہذیب کی نقالی کرتے ہوئے جس کو اسلامی اور قرآن کی تعلیم کے مطابق لباس نہیں کہا جا سکتا۔یا زندگی کے ایسے طریقے اختیار کرتی ہیں جو اسوہ رسول کریم ﷺ اور قرآنی اصول زندگی کے خلاف ہیں۔وہ کس طرح کہہ سکتیں ہیں کہ ہم اس بات پر ایمان رکھتی ہیں کہ قرآن زندہ کتاب ہے اورنبی کریم ﷺ زندہ نبی ہیں۔اور آپکی تعلیم عالمگیر اور ہمیشہ کے لئے ہے۔کیونکہ ان کا اپنا عمل قرآن کی تعلیم کے مطابق نہیں ہے۔مثلاً آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں الحياء من الایمان۔ایمان کے بہت سے شعبے ہیں اور ان میں سے ایک حیا بھی ہے۔جو وباء آجکل ہمارے معاشرے میں جنم لے رہی ہے وہ آنحضرت ﷺ کی اس حدیث کی سراسر خلاف ہے۔اپنی بچیوں کے لباس۔اخلاق۔عادات اور ان کی تربیت کی طرف توجہ دینا۔میری بہنو! آپ کے زمانہ میں سب سے بڑی قربانی ہے صرف چندے دے کر آپ اللہ تعالیٰ کو راضی نہیں کر سکتیں۔آپکی گودوں میں پرورش پانے والے بچے عامل قرآن ہوں۔رسومات کو چھوڑنے والے ہوں۔جن کا نصب العین صرف یہ ہو کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے۔اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنا دستور عمل بنائیں گے۔آخر میں اپنی بہنوں کو لجنہ کے دو چندوں کی طرف خصوصیت سے توجہ دلاتی ہوں۔گذشتہ سال اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حضور کی اجازت کے بعد میں نے اپنی بہنوں کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی کہ انشاء اللہ