خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 570
570 دوم: پھر اپنے گھر کے لوگوں کے لئے دعا مانگتا ہوں۔کہ ان سے قرۃ العین عطا ہو اور اللہ تعالیٰ کی مرضیات کی راہ پر چلیں۔سوم : پھر اپنے بچوں کے لئے دعا مانگتا ہوں کہ یہ سب دین کے خدام بنیں (چنانچہ اس دعا کا اظہار آپ نے اپنے اشعار میں بھی فرمایا ہے۔یہ شعر خلاصہ ہے ان سب دعاؤں کا جو آپ نے اپنی اولاد کے لئے فرمائیں۔) یہ ہو میں دیکھ لوں تقویٰ سبھی کا جب آئے وقت میری واپسی کا چہارم : پھر اپنے مخلص دوستوں کے لئے نام بنام پنجم اور پھر ان سب کے لئے جو اس سلسلہ سے وابستہ ہیں خواہ ہم انہیں جانتے ہیں یا نہیں جانتے۔“ ملفوظات جلد اوّل صفحہ 309 پھر آپ نے یہ بھی فرمایا : میرا تو یہ مذہب ہے کہ دعا میں دشمنوں کو بھی باہر نہ رکھے جس قدر دعا وسیع ہوگی۔اسی قدر فائدہ دعا کرنے والے کو ہوگا۔اور دعا میں جس قدر بخل کرے گا اسی قدر اللہ تعالیٰ کے قرب سے دور ہوتا جاوے گا۔اور اصل تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے عطیہ کو جو بہت وسیع ہے جو شخص محدود کرتا ہے اس کا ملفوظات جلد اوّل صفحہ 353 ایمان بھی کمزور ہے۔“ دعا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی صفات کا لحاظ رکھے۔جس دعا سے جس جس صفت کا تعلق ہوا سے خطاب کرے دعا کے لئے رقت والے الفاظ تلاش کرنے چاہئیں۔مسنون دعائیں بھی کرے کہ ان میں بڑی برکت ہے۔مگر سمجھ کر طوطے کی طرح نہیں ورنہ بہتر ہے کہ اپنی زبان میں دعا کرے۔دعا کا اصل وقت : دعا کا اصل وقت نماز ہی ہے اگر نماز میں دعا نہ کی اور بعد میں بیٹھ کر کر لی تو کیا فائدہ۔وہی وقت دعا کا سب سے اچھا ہے۔جب انسان خدا تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہو۔اس لئے نماز میں دعا سے غفلت نہیں کرنی چاہئے۔اور کبھی بھی دعا کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔ہر کام کی تدبیر بھی کرے۔اور اس کے لئے دعا بھی کرے۔تبھی دنیوی اور دینی ہر دو قسم کی برکات اور حسنات حاصل کر سکتا ہے اور گنا ہوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: