خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 569 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 569

569 معرفت الہی کا ذریعہ: اللہ تعالیٰ کی معرفت کے حصول کا ذریعہ بھی دعا ہی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ نے دو باتیں اس کے لئے بطور اصول کے رکھی ہیں۔اول یہ کہ دعا کرو۔یہ سچی بات ہے خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء: 29)۔انسان کمزور مخلوق ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم کے بدوں کچھ بھی نہیں کر سکتا۔اس کا وجود اور اس کی پروش اور بقا کے سامان سب کے سب اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہیں احمق ہے وہ انسان جو اپنی عقل و دانش یا اپنے مال و دولت پر ناز کرتا ہے کیونکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا عطیہ ہے۔وہ کہاں سے لایا اور دعا کے لئے یہ ضروری بات ہے کہ انسان اپنے ضعف اور کمزوری کا پورا خیال اور تصور کرے۔جوں جوں وہ اپنی کمزوری پر غور کرے گا اسی قدر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مد کا محتاج پائے گا۔اور اس طرح پر دعا کے لئے اس کے اندر ایک جوش پیدا ہوگا۔“ ملفوظات جلد 1 صفحہ 273 دعا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عظمت کا غلبہ دل پر ہو اس کی خشیت سے دل پانی پانی ہو۔حقیقی رفت اور گداز پیدا ہو کر اللہ تعالیٰ کے لئے ایک قطرہ بھی آنکھ سے نکلے تو یقیناً دوزخ کو حرام کر دیتا ہے مگر دعا کے لئے توجہ اور رقت بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ سب امور خدا تعالیٰ کی موہبت ہیں اکتساب کو ان میں دخل نہیں تو جہ اور رقت بھی خدا تعالیٰ کے ہاں سے نازل ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ کسی کے لئے کامیابی کی راہ نکال دے تو وہ داعی کے دل میں توجہ اور رقت ڈال دیتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 215) جو حالت میری توجہ کو جذب کرتی ہے اور جسے دیکھ کر میں دعا کے لئے اپنے اندر تحریک پاتا ہوں وہ ایک ہی بات ہے کہ میں کسی شخص کی نسبت معلوم کرلوں کہ یہ خدمت دین کے سزاوار ہے اور اس کا وجود خدا تعالیٰ کے لئے خدا کے رسول ﷺ کے لئے خدا کی کتاب کے لئے اور خدا کے بندوں کے لئے نافع ہے۔ایسے شخص کو جو در دوالم پہنچے۔وہ در حقیقت مجھے پہنچتا ہے۔“ ملفوظات جلد 1 صفحہ 215 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق دعا آپ کی اپنی زبان مبارک سے: اوّل: اپنے نفس کے لئے دعا مانگتا ہوں کہ خداوند کریم مجھ سے وہ کام لے جس سے اس کی عزت و جلال ظاہر ہو۔اور اپنی رضا کی پوری توفیق عطا کرے۔