خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 567
567 دعا کروانے والے میں ایسا گہرا تعلق ہو کہ دعا کرنے والا دعا کروانے والے کے لئے بے قراری اور درد محسوس کرے۔ایسا تعلق جو ماں اور بچہ کو ہوتا ہے کہ اس کے رونے سے ماں کی چھاتیوں میں دودھ اتر آتا ہے۔قبولیت دعا کی بعض دیگر شرائط: تیسری شرط حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قبولیت دعا کی یہ بیان فرمائی ہے کہ جو وقت اصفے دعا کے لئے میسر ہو ایسا وقت کہ بندہ اور اس کے رب میں کچھ حائل نہ رہے۔ایسا وقت میسر آنا تو محض ہمارے رب کے فضل پر ہی موقف ہے۔تاہم ہر انسان کو یہ چاہیے کہ دعا کرتے وقت دنیا سے اپنے خیالات کو منقطع کر لے اور پھر بارگاہ الہی میں جھکے۔چوتھی شرط آپ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ پوری مدت دعا کے لئے حاصل ہو استقامت اور صبر کے ساتھ دعا میں لگا رہے تھک کر چھوڑ نہ دے مایوسی نہ طاری ہو جائے۔ایک کسان جب بیج ڈالتا ہے تو دوسرے دن فصل کے آنے کی امید نہیں رکھتا اسے معلوم ہے کہ دانہ ڈالنے کے ایک مقررہ وقت کے بعد وہ پھوٹے گا بہت سے خراب دانے ضائع بھی ہو جائیں گے۔پھر اگر وہ وقت پر پانی دینے کی طرف سے بے توجہ ہو تو فصل بڑھے گی نہیں۔دانہ نہیں پڑے گا پھر فصل پکنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔مرد عورت شادی کرتے ہیں تو بچہ کے لئے ان کو مقررہ مدت کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔یہی حال دعا کا ہے دعا کے لئے بھی استقامت کے ساتھ انتظار ضروری ہے۔اور اعمال صالحہ کا پانی اس کو پہنچنا ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اطاعت رسول کریم ﷺ اور درود شریف کثرت سے پڑھنے کو بھی قبولیت دعا کا ذریعہ قرار دیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي (ال عمران : 32) اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنا چاہتے ہو تو میرے ( یعنی آنحضرت ﷺ پیچھے پیچھے چلو۔آنحضرت کی کامل اطاعت کے بغیر اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنی ممکن نہیں۔جب محبت حاصل نہیں ہو سکتی تو دعا کیسے سنی جاسکتی ہے۔پس دعا کرنے والے کو اپنی زندگی آنحضرت ﷺ کی سنت اور ارشادات کے مطابق گزارنی ضروری ہے۔اور نبی کریم ﷺ کی کامل اطاعت ممکن نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کامل اطاعت اور آپ کے خلفاء کی کامل اطاعت کے بغیر۔پس چاہیے کہ ہر فعل اور ہر حرکت اور ہر سکون میں نبی کریم ﷺ کی کامل اطاعت کرنے کی کوشش کی جائے اور ہر دعا سے پہلے آنحضرت ﷺ پر بکثرت درود بھیجے۔حقیقت تو یہ ہے کہ سب دعا ئیں درود بھیجنے میں آجاتی ہیں۔