خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 562
562 سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اہم تصریحات:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔عورت اور مرد کا جوڑا تو باطل اور عارضی جوڑا ہے میں کہتا ہوں حقیقی ابدی اور لذت مجسم کا جو جوڑا ہے وہ انسان اور خدا تعالیٰ کا ہے مجھے سخت اضطراب ہوتا ہے اور کبھی کبھی یہ رنج میری جان کو کھانے لگتا ہے کہ ایک دن اگر کسی کو روٹی یا کھانے کا مزہ نہ آئے تو طبیب کے پاس جاتا اور کیسی کیسی منتیں اور خوشامدیں کرتا اور روپیہ خرچ کرتا اور دکھ اٹھاتا ہے کہ وہ مزہ حاصل ہو وہ نا مرد جو اپنی بیوی سے لذت حاصل نہیں کر سکتا بعض اوقات گھبرا گھبرا کر خود کشی کے ارادے تک پہنچ جاتا ہے اور اکثر موتیں اس قسم کی ہو جاتی ہیں۔مگر آہ! وہ مریض دل وہ نا مرد کیوں کوشش نہیں کرتا جس کو عبادت میں لذت نہیں آتی اس کی جان کیوں غم سے نڈھال نہیں ہو جاتی ؟ دنیا اور اس کی خوشیوں کے لئے تو کیا کچھ کرتا ہے، مگر ابدی اور حقیقی راحتوں کی وہ پیاس اور تڑپ نہیں پاتا کس قدر بے نصیب ہے کیسا ہی محروم ہے۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 26) " پھر آپ فرماتے ہیں: پس میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ سے نہایت سوز اور ایک جوش کے ساتھ یہ دعا مانگنی چاہئے کہ جس طرح اور پھلوں اور اشیاء کی طرح طرح کی لذتیں عطا کی ہیں نماز اور عبادت کا بھی ایک بار مزہ چکھا ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 28) دے۔“ جس طرح ایک انسان کو کسی پھل یا غذا کا ذائقہ اچھا لگے اس کو ہمیشہ کھاتا ہے ترک نہیں کر دیتا۔کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس پھل میں یہ مزہ ہے۔اسی طرح جس انسان کو دعا میں لذت آتی ہے۔عبادت میں لذت حاصل کرتا ہے۔وہ اس سے غافل نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ کی ہستی کا سب سے بڑا ثبوت دعا اور قبولیت دعا ہی ہے اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے خود اپنی ہستی کا ثبوت کے طور پر اس دلیل کو پیش فرمایا۔فرماتا ہے وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ۔(البقرة: 187) کہ میرے بندے جب تجھ سے پوچھیں کہ خدا تعالیٰ کہاں ہے تو اس کے جواب میں کہو کہ وہ بہت ہی قریب ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب کوئی دعا کرنے والا مجھے دل کی گہرائیوں سے پکارتا ہے تو میں اسے جواب دیتا ہوں جو انسان اللہ تعالیٰ سے دعا کرے اور اس کی دعا قبول ہو۔کیا پھر