خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 556 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 556

556 ظاہر کرو۔وہ نمونہ دکھلاؤ کہ غیروں کے لئے کر امت ہو۔یہی دلیل تھی جو صحابہ میں پیدا ہوئی تھی محنتم أَعْدَاء فَالَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمُ یا در کھوتالیف ایک اعجاز ہے۔یادرکھو جب تک تم میں سے ہر ایک ایسا نہ ہو کہ جو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لئے پسند کرے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔وہ مصیبت اور بلا میں ہے اس کا انجام اچھا نہیں۔ملفوظات جلد اوّل صفحہ 336 خدا کرے ہماری لجنات کی جد و جہد اور ہمارا اجتماع اللہ تعالیٰ کی بیان فرمودہ ان تینوں اغراض کو پورا کرنے والا ہو۔ہماری بہنیں ایسے فیصلے کرنے کی توفیق پائیں جو لجنہ کو ترقی دینے والے اور ہمارے معاشرہ کو ایک خوشحال معاشرہ بنادینے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ کا فضل اور سراسر احسان ہے کہ سال رواں 1968 ،69ء کامیابی سے اختتام پذیر ہوا۔اور لجنہ اماءاللہ نے اپنی عمر کے 47 سال پورے کر لئے۔الحمد للہ ثم احمداللہ۔سال رواں میں مسجد نصرت جہاں جس کے چندہ کے لئے 1964ء دسمبر میں تحریک کرنے کی سعادت حاصل ہوئی تھی کا چندہ دسمبر 1968ء میں پورا ہو گیا۔نہ صرف پورا ہوا بلکہ اس وقت تک پانچ لاکھ اٹھارہ ہزار روپے ہو چکا ہے۔گزشتہ اجتماع کے موقعہ پر ایک اور تحریک جس کا نام ”تحریک خاص لجنہ اماءاللہ رکھا گیا ہے پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی جس کی اجازت حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی طرف سے ملنے پر یہ تحریک جلسہ سالانہ کے موقع پر پیش کی گئی گو اس تحریک کو بہنوں نے اس طرح خوش آمدید نہیں کہا جس طرح مسجد نصرت جہاں کی تحریک پر پروانہ وار گری تھیں۔تاہم قریباً دس ماہ گزرنے پر اس مد کا چندہ چھیاسٹھ ہزار اور وعدے ساڑھے تین لاکھ کے ہو چکے ہیں۔جن مقاصد کے لئے یہ تحریک کی گئی تھی ان کاموں کا بہت جلد شروع کر دینا ضروری ہے۔گو یہ چندہ انشاء اللہ 1972ء تک جبکہ لجنہ اماءاللہ کے قیام پر انشاء اللہ پچاس سال گزرجائیں گے۔جاری رہے گا۔لیکن ضروری ہے کہ 1970ء میں تمام کاموں کی ابتداء کر دی جائے تا تین سالوں میں سب کاموں کی تکمیل ہو سکے۔اس لئے ضروری ہے کہ اس تحریک سے زیادہ سے زیادہ خواتین کو روشناس کروایا جائے اور اس فنڈ کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کیا جائے۔اس ضمن میں اپنی نہایت عزیز سیکرٹری مال رشیدہ حسین مرحومہ کی اچانک موت پر اظہار غم کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔اس بچی نے باوجود کم عمری، کمزور صحت اور نا تجربہ کاری کے اتنا اچھا اور اتنی ذمہ داری سے کام کیا ہے کہ اس کی مثال خواتین میں کم ہی ملتی ہے۔اللہ تعالیٰ وہی جذ بہ کام کا اور