خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 555 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 555

555 اپنی رضا کی جنتوں میں ہمیں رکھے۔وہ ہم سے ناراض ہو کر ہمیں اپنے قہر اور اپنی لعنت کی جہنم میں نہ پھینک دے خدا کرے اس کی رضا ہمارے استقبال کو آئے اور جہنم کے فرشتے ہماری راہ نہ دیکھ رہے ہوں مگر یہ مقام آپ اس وقت حاصل کر سکتی ہیں جب آپ اس قسم کی بد رسوم اور بد عادتوں کو کلیہ اور پورے طور پر انتہائی نفرت کے ساتھ چھوڑ دیں۔ان رسوم اور بد عادات سے جماعت کو نفرت کرنی چاہئے۔اور ان میں یہ تبلیغ کرنی چاہئے کہ خدا کے لئے وہ رسوم چھوڑ دیں جو خدا نے نہیں بنائیں اور ان باتوں اور ان راہوں کو اختیار کرو جو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے مقرر کی ہیں۔“ المصابیح صفحہ 33 34 پس ترک رسومات کے لئے تدابیر اختیار کرنی ہماری لجنہ اماء اللہ کے وسیع پروگرام کا ایک ضروری حصہ ہونا چاہئے۔تیسری اہم غرض اجتماعوں اور تنظیموں کی قرآن مجید نے یہ بیان فرمائی ہے اَوْ اَصِلَاحٍ بَيْنِ الْنَاسِ مَنْ أَمَرَ بِإِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ (النساء : 115) قابل مبارک انجمنیں یا تنظیمیں وہ ہیں جو فسادوں اور جھگڑوں کو مٹانے کے لئے بنی ہوں۔خواہ وہ فساد افراد میں ہو یا محلے میں ہو۔شہر میں ہو یا ملک اور قوم میں امن اور محبت اور اصلاح الناس پر جتنا زور اسلام نے دیا ہے کسی اور مذہب نے نہیں دیا۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں:۔لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ فَيَمُنِى خَيْرًا أَوْ يَقُولُ خَيْرًا (بخاری کتاب الصلح) کہ وہ شخص جھوٹا نہیں کہلا سکتا جو لوگوں کے درمیان صلح صفائی کرانے میں لگا رہتا ہے یا بھلے اور نیکی کی بات کہتا ہے۔پس ہم میں سے ہر فرد کا دل دوسرے سے صاف ہونا چاہئے۔لڑائی جھگڑے سے ہمیں متنفر رہنا چاہئے۔ہمارا تعاون با ہمی نیکی اور تقویٰ کے کاموں پر ہو۔عموماً لڑائی جھگڑا پیدا ہوتا ہے۔غیبت سے بدظنی سے تجسس سے۔پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنے سے دوسرے کی حق تلفی کرنے سے ان باتوں سے اجتناب کیا جائے تو لڑائی جھگڑے کی بنیادیں ہی منہدم ہو جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔میں دو ہی مسئلے لے کر آیا ہوں۔اوّل خدا کی تو حید اختیار کرو۔دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی