خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 551
551 لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے بارہویں سالانہ اجتماع کے موقع پر نمائندگان لجنات اماء الله ! افتتاحی خطاب 1969ء أَهْلَا وَّ سَهْلا و مَرْحَبًا اللہ تعالیٰ آپ سب کا مرکز میں آنا مبارک فرمائے اور جس عظیم الشان مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپ سب مختلف مقامات سے یہاں اکٹھی ہوئی ہیں وہ پورا فرمائے۔یہ تین دن آپ سب دعاؤں، ذکر الہی ، درود شریف پڑھنے تسبیح وتحمید میں بسر کریں۔اپنے وقت کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہونے دیں۔آپ پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔آپ نمائندہ بن کر آئی ہیں اپنی اپنی لجنات کی طرف سے۔اس لئے آپ نے زیادہ سے زیادہ سیکھنا اور فائدہ اٹھانا ہے اور اپنی بجنات کی صحیح نمائندگی کرنی ہے۔کسی نمائندہ کی اجتماع سے عدم موجودگی یا بے پروائی اس کی لجنہ کی اہمیت کو کم کر دے گی۔وقت کی پابندی اور ماحول کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ماحول کی صفائی کا روحانیت پر بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔جو بہنیں نمائندگان تو نہیں ہیں لیکن اپنے شوق سے اس اجتماع میں حاضر ہوئی ہیں ان سے بھی میری درخواست ہے اپنا ایک منٹ بھی ضائع نہ کریں۔شور نہ ہونے دیں۔توجہ سے پروگرام کو سنیں۔ادھر ادھر نہ پھریں اور صفائی کا خیال رکھیں۔ہمارے اجتماع منعقد کرنے کی غرض کیا ہے؟ انسانوں میں آپس میں برادرانہ تعلقات پیدا کرنے کے لئے امیر وغریب کو ایک سطح پر لانے کے لئے۔ایک معاشرہ میں تمام افراد کے ایسے تعلقات جن کی بنیاد محبت پر قائم ہو پیدا کرنے کے لئے اجتماعات کا ہونا ضروری ہے اور اسی لئے ہم جمع ہوئی ہیں۔تا اپنی لجنہ کی ترقی کے لئے باہم مل کر بغیر کسی فساد کے پیدا کئے باہمی مشورے کر کے ایسے فیصلے کرسکیں جن پر عمل کرنے سے دنیا میں احمدی عورت کا مقام بلند سے بلند ہوتا چلا جائے اور لجنہ اماءاللہ غلبہ اسلام کے لئے کوششوں اور قربانیوں میں ایک اہم کردار ادا کرے۔اجتماعات کا انسانی تمدن پر نہایت گہرا اثر پڑتا ہے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:۔لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِّنْ نَّجْوَاهُمُ إِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ وَمَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا ( النساء : 115) ترجمہ:۔ان لوگوں کے مشوروں کو مستقلی کر کے جو صدقہ یا نیک بات یا لوگوں کے درمیان اصلاح