خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 546 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 546

546 خطاب بر موقعہ جلسہ سالانہ 1968ء 27 دسمبر مہمان مستورات کو ہدیہ سلام و دعا پیش کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ان مبارک ایام کی بے حساب برکات و فیوض سے استفادہ کریں اور اپنے وقت کو بر کار باتوں اور بے فائدہ کاموں میں ضائع نہ کریں آپ نے فرمایا کہ آج میں ایک خاص سکیم حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اجازت سے پیش کرتے ہوئے رب کریم و قدیر سے یہ امید رکھتی ہوں کہ یہ تحریک لجنہ کی مضبوطی کا باعث ہوگی نیز وہ محض اپنے فضل سے آپ کے دلوں کو اس تحریک کی کامیابی کی طرف مائل کرے گا۔حضرت مصلح موعود جن کو اللہ تعالیٰ نے اسیروں کی رستگاری کو موجب بنایا تھا۔حضور عورتوں کی مشکلات سے رہائی کا باعث بھی بنے کیونکہ آج سے پچاس سال قبل طبقہ نسواں سے زیادہ مظلوم و اسیر کوئی نہ تھا۔حضور نے تعلیم القرآن کو عام کر کے عورتوں کے فرائض و حقوق کی پاسداری کی۔حضرت مصلح موعود کا سب سے بڑا احسان 25 دسمبر 1922ء کو لجنہ اماءاللہ کا قیام ہے۔وہ مختصرسی انجمن جو چودہ نمبرات سے شروع ہوئی آج دنیا کے کونے کونے میں پھیل گئی ہے۔اور بین الاقوامی حیثیت حاصل کر کے عالمگیر شہرت کی حامل ہو چکی ہے۔لجنہ کے قیام کا مقصد یہ بھی تھا کہ احمدی مستورات کو اسلام کی خاطر قربانیاں پیش کرنے پر آمادہ کیا جائے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ خدا کی راہ میں مسلسل مالی قربانیاں پیش کی جائیں زبانی ایمان کا دعویٰ کافی نہیں۔آج جماعت احمدیہ کی خواتین کو عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ خلیفہ وقت کی اطاعت اور نظام جماعت کی پیروی ہی ان کا حقیقی ایمان ہے۔جب خلیفہ وقت کی طرف سے یا اس کی اجازت سے کوئی سکیم پیش کی جائے تو شرح صدر سے اس میں قربانی پیش کر دینا ہی حقیقی ایمان ہے مبارک ہیں وہ جو خلیفہ وقت کی آواز پر اپنا تن من دھن، جان، مال اور عزت کو ہر وقت قربان کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔قرآن پاک نے اتفاق فی سبیل اللہ پر بہت زور دیا ہے۔اس ضمن میں آپ نے سورۃ بقرہ سورۃ ان اور سورۃ المنافقون کی آیات کو پیش کر کے فرمایا۔اور یہ ثابت کیا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیا ہوا مال ضائع نہیں جاتا بلکہ اُس کا بدلہ کئی گنا اور بے حساب ملے گا۔آپ نے فرمایا آج قربانیاں کرنے والے اور بعد میں قربانیاں کرنے والے جب کہ تمام دنیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گی۔ہرگز برابر نہیں ہو سکتے آنے والے نسلیں سابقون پر رشک کریں گی۔اور ان پر سلام و درود بھیجیں گی۔میری بہنو خلافت کا دامن تھامے رہو تو