خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 543
543 طرف خصوصی توجہ دیں کہ اصل کام ہمارا یہی کام ہے اور باقی سب کام ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو تو فیق عطا فرمائے۔آمین اللہم آمین کام کریں اس یقین کے ساتھ کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے احکامات پر چلنا ہے۔ورنہ دلوں میں تبدیلی پیدا کرنا تو صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور جس کام کا وہ ارادہ کرلے وہ ٹل نہیں سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔”خدا تعالیٰ نے جس تہذیب کے پھیلنے کا ارادہ فرمایا ہے اسے اب کوئی روک نہیں سکتا۔جیسے جب کوئی بڑا بھاری سیلاب آتا ہے تو اس کے آگے کوئی بند نہیں لگا سکتا۔اسی طرح پر اللہ تعالیٰ کا ارادہ اس سیلاب سے بھی بڑھ کر زبر دست ہے۔کون ہے جو اس کے آگے بند لگائے خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ دنیا میں سچی تہذیب اور روحانیت پھیلے اور یہ اس کے بالمقابل عیسائیت کے گندے خیالات پھیلانا چاہتے ہیں۔اب خدا تعالیٰ سے ان کی لڑائی ہے معلوم ہو جائے گا کہ اس کا انجام کیا ہے۔خدا تعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا ہے وہ ہو کر رہے گا۔وہی خدا ہے جس نے زمین و آسمان بنایا ہے وہ چاہے تو نئے سرے سے اس زمین و آسمان کو بنا سکتا ہے اب اسی کا کام ہے کہ وہ دنیا پر اثر ڈال دے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 332 حاشیہ) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ۔الفضل 27 اکتوبر 1968ء)