خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 38 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 38

38 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے مثال قوت قدسیہ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب : 57) کمال ترین وجود :۔اللہ تعالیٰ کی قدیم سے سنت چلی آئی ہے کہ جب کبھی دنیا پر تاریکی چھائی جب کبھی روحانی طور پر ظلمت کا دور دورا ہوا اور اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق میں پردے حائل ہو گئے۔خدا تعالیٰ کی رحمت نے جوش مارا۔اور خدا تعالیٰ کے بندوں کی اصلاح کیلئے انبیاء مبعوث ہوتے رہے۔ہر ملک اور ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء آتے رہے ہیں اور کبھی بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بھٹکتا ہوا نہیں چھوڑا۔جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے۔وَإِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (فاطر: 25) اور ان سب انبیاء پر ایمان لانا خواہ ہمیں ان کا علم ہو یا نہیں ہمارے لئے ضروری ہے۔ارشاد خداوندی (البقره:286) لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهِ کے مطابق ہم ان کو ماننے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں کر سکتے کہ کس پر ایمان لانے کی کم ضرورت ہے اور کس پر ایمان لانے کی زیادہ ہے۔اصولی طور پر سب ہی پر ایمان لانا ہمارے لئے ضروری ہے۔لیکن باوجود اس اصول کے کہ سب انبیاء پر ایمان لانا ضروری ہے۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تمام انبیاء کا ایک مقام نہیں۔خود اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔جس کا ذکر اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اس طرح فرماتا ہے۔تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعَضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ (البقره: 254) جب ہم قرآن مجید پڑھتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو آپ کے حسن کی شعائیں آنکھوں کو چکا چوند کر دیتی ہیں اور بے اختیار منہ سے نکل جاتا ہے۔وہ پیشوا ہمارا جس ہے نور سارا نام اس کا ہے محمد دلبر مرا یہی ہے