خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 533 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 533

533 والدین سے احسان کرنے کا ارشاد فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مالی کشائش ہوتو ماں باپ سے احسان کرو نہ ہو تو نہ کرو۔ماں باپ جب اولاد کو پالتے ہیں تو یہ نہیں دیکھتے کہ ان کی مالی حالت کیا ہے جو خود کھاتے ہیں اس سے بہتر کھلاتے ہیں اور جو خود پہنتے ہیں اس سے بہتر پہناتے ہیں لیکن جب یہی معاملہ الٹ ہوتا ہے تو اولا د والدین کے ساتھ وہ حسن سلوک نہیں کرتی جو انہیں کرنا چاہئے اور جس کی تعلیم اسلام " ان کو دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسلامی معاشرہ کے احکام کو خلاصہ یوں بیان فرمایا ہے: وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَعْمَى وَالْمَسَاكِيْنَ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ ايْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا۔(سوره النساء: 37) ان آیات کا کیا ہی پیارا ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلامی اصول کی فلاسفی میں کیا ہے فرماتے ہیں: و تم ماں باپ سے نیکی کرو اور قریبیوں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور ہمسایہ سے جو تمہارا قریبی ہے اور ہمسایہ سے جو بیگانہ ہے اور مسافر سے اور نوکر اور غلام اور گھوڑے اور بکری اور بیل اور گائے سے اور حیوانات سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں کیونکہ خدا کو جو تمہارا خدا ہے یہی عادتیں پسند ہیں وہ لا پر واہوں اور خود غرضوں سے محبت نہیں کرتا۔روحانی خزائن جلد 10۔اسلامی اصول کی فلاسفی ص 358 یہ آیت ایک ایسے معاشرہ کے قیام پر روشنی ڈالتی ہے جو حقیقت میں دنیا میں جنت ہو۔جہاں ہر شخص اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے والا ہو۔اور ہر شخص کے حقوق ادا کئے جائیں۔فساد بڑھتا ہے حقوق ادانہ کرنے سے۔خود غرضی اور لا پرواہی سے۔یعنی ایک طرف طبیعت میں تکبر اور خود غرضی کا پیدا ہونا کہ ہمیں کیا ضرورت ہے دوسرے کا خیال رکھنے کی۔اپنے نفس کو قوم کی بہبودی پر مقدم رکھنے سے دوسری طرف لا پرواہی یعنی ان ذمہ داریوں کو اہمیت نہ دینا۔اللہ تعالیٰ اور محمد رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کی اطاعت کا احساس ہی دل میں نہ ہونا۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حسن سلوک کرنے کے لحاظ سے ترتیب وار ہر انسان کی کیا ذمہ داری ہے سب سے پہلے ماں باپ کے حقوق پھر باقی رشتہ داروں کے حسب مراتب۔پھر یتامی ، مساکین، ہمسایہ شریک فی العمل ، مسافر اور نوکر چاکر اور جانوراگر ہر انسان اپنی روز مرہ کی زندگی میں ان سب ہستیوں کے ساتھ حسن سلوک کرے تو ہر شخص دوسرے سے مطمئن رہے گا۔سب کی تکلیفیں دور ہوں گی۔ضروریات پوری ہوں گی۔کوئی بھوکا نہیں رہے گا، کوئی نگا نہیں رہے گا۔ایک دوسرے کا تعاون